روزانہ گھنٹوں ریلز اور مختصر ویڈیوز دیکھنا بظاہر ایک عام تفریح محسوس ہوتی ہے، لیکن مسلسل اسکرولنگ ہماری توجہ، ذہنی سکون اور روزمرہ کاموں پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔
ایک ریل دیکھی، پھر دوسری اور پھر تیسری، یہ سلسلہ اکثر اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کئی گھنٹے گزر نہیں جاتے۔ مسئلہ کسی ایک ویڈیو میں نہیں بلکہ اس مسلسل اسکرولنگ میں ہے، جس میں ہر چند سیکنڈ بعد نئی معلومات، نیا منظر اور نئی تفریح سامنے آتی ہے۔
مسلسل تیز رفتار مواد دیکھنے کی عادت کے باعث کتاب پڑھنا، پڑھائی کرنا یا کسی ایک کام پر طویل وقت تک توجہ دینا مشکل محسوس ہوسکتا ہے۔ حتیٰ کہ خاموش بیٹھنا یا کسی سے گہری گفتگو کرنا بھی بعض اوقات بوریت کا باعث بننے لگتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان مسلسل تفریح میں مصروف رہنے کے باوجود ذہنی طور پر تھکا ہوا محسوس کرسکتا ہے۔
مسئلہ سستی نہیں، حد سے زیادہ اسکرین ٹائم بھی ہوسکتا ہے
اکثر لوگ مسلسل توجہ نہ دے پانے کو اپنی سستی سمجھتے ہیں، لیکن حد سے زیادہ مختصر ویڈیوز دیکھنے کی عادت بھی ذہنی توجہ کو متاثر کرسکتی ہے۔ شارٹ فارم مواد فوری اور مسلسل تفریح فراہم کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان ایسے کاموں سے جلد اکتا سکتا ہے جن کے لیے صبر، وقت اور مسلسل توجہ درکار ہوتی ہے۔
تو اس عادت سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے؟ کبھی کبھی کچھ نہ کرنا ہی بہترین آغاز ہوسکتا ہے۔ فون ایک طرف رکھیں اور چند منٹ خاموش بیٹھیں۔ بغیر ہیڈ فون کے چہل قدمی کریں۔ کتاب کے صرف دو صفحات پڑھیں۔ کھانا کھاتے وقت ویڈیو نہ دیکھیں اور خود کو کچھ دیر بور ہونے دیں۔
شروع میں خاموشی عجیب اور بے آرام محسوس ہوسکتی ہے۔ بار بار فون اٹھانے کا دل کرے گا، لیکن ہر بار فوری طور پر اس خواہش کو پورا کرنا ضروری نہیں۔آپ کی توجہ قیمتی ہے۔ اگر دن کا ہر خالی لمحہ اسکرین اور الگورتھم کے حوالے کردیا جائے تو آہستہ آہستہ انسان اپنی توجہ پر کنٹرول کھو سکتا ہے۔دماغ کو ہر وقت نئی تفریح نہیں چاہیے۔ کبھی کبھی اسے صرف ایک وقفے کی ضرورت ہوتی ہے۔