کے پی میں ایک ایک علاقہ10،10بار کلیئر کرنے کے بعد انتظامیہ سنبھالنے کیلئے تیار نہیں،رانا ثنا ء اللہ

کے پی میں ایک ایک علاقہ10،10بار کلیئر کرنے کے بعد انتظامیہ سنبھالنے کیلئے تیار نہیں،رانا ثنا ء اللہ

 وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی سے سیاسی قیادت کی ملاقات اور خیبر پختونخوا کے 5 اضلاع میں ایمرجنسی کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا ہوگیا تھا، جبکہ طے کیا گیا تھا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی اگلے منگل سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا۔

 نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ تحریک انصاف 5 اضلاع میں ایمرجنسی کے معاملے پر رضامند ہوگئی تھی، تاہم دہشتگردی سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بات آگے نہ بڑھ سکی اور اسی وجہ سے معاہدہ مکمل نہ ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں پہلے ہی جاری ہیں،دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے بعد علاقے کا انتظام سنبھالنا فوج کی نہیں بلکہ سول انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

انتظامی خلا

رانا ثناء اللہ کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ بعض علاقوں کو متعدد مرتبہ کلیئر کیے جانے کے باوجود سول انتظامیہ وہاں ذمہ داری سنبھالنے کیلئے تیار نہیں، ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں پولیس تھانے تک موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے حالات میں وفاق عارضی طور پر صوبے کے معاملات اپنے انتظام میں لے گا اور سول انتظامیہ کے امور بھی چلائے گا، تاہم بعد میں یہ ذمہ داریاں خیبر پختونخوا حکومت کو واپس منتقل کردی جائیں گی۔

25 اضلاع کی ذمہ داری

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ 5 اضلاع کے علاوہ باقی 25 اضلاع میں امن و امان اور متعلقہ اقدامات صوبائی حکومت خود کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں :دعویٰ لاکھوں کا، حقیقت محض 3 ہزار! 12 اضلاع سے ناکامی کے بعدپی ٹی آئی کا لانگ مارچ مزید رسوائی کی طرف گامزن

بانی سے ملاقات

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فیملی ڈاکٹر کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے عدالتی اجازت درکار ہوتی ہے اور یہ اجازت بعد میں حاصل کی جاسکتی تھی۔ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے وفد نے محمود اچکزئی اور سہیل آفریدی سے بھی مشاورت کی، بانی پی ٹی آئی کے علاج کیلئے آنے والے ڈاکٹر برطانوی شہری ہیں۔

 ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی مشاورت کے عمل میں شامل کیا جاسکتا تھا، حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں،انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر فیصل سلطان کو بانی پی ٹی آئی کے پاس بھیجا جاسکتا ہے، جبکہ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی صحت مند ہیں۔

سیاسی کمیٹی کا منصوبہ

رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ حکومت نے مذاکراتی مسودے میں ایک سیاسی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی رکھی تھی، جس میں دونوں فریقوں کے نمائندے شامل ہوتے۔ اس کمیٹی کا مقصد چھوٹے نوعیت کے معاملات کو باہمی طور پر حل کرنا تھا۔

ڈرونز کا معاملہ

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو ڈرون کے استعمال پر اعتراض ہے تو دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی کیسے ممکن ہوگی؟ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان سے بھی مسلسل کہتا رہا ہے کہ اس کی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دی جائے، تاہم افغانستان اپنی سرزمین کے استعمال کے حوالے سے مطلوبہ یقین دہانی نہیں کراسکا۔

لانگ مارچ پر پیغام

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کو مزید گنجائش دی جاتی تو ممکن تھا کہ معاہدے پر دستخط ہوجاتے،انہوں نے وزیراعظم کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ ختم کرکے اگلے روز حکومت کے ساتھ بیٹھا جائے۔ وزیراعظم نے اچھا مشورہ دیا ہے، لانگ مارچ میں آخر رکھا ہی کیا ہے، اسے ختم کرکے مذاکرات کی طرف آنا چاہیے۔

وفاق پر حملے کی صورت میں وارننگ

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ لانگ مارچ کوئی سیاسی عمل نہیں بلکہ خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ حکومت مذاکرات کیلئے پہلے بھی تیار تھی اور اب بھی تیار ہے،ان کا کہنا تھا کہ اگر لانگ مارچ جاری رکھا گیا اور وفاق پر حملے کی کوشش کی گئی تو خیبر پختونخوا حکومت اپنا آئینی جواز کھو بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ صرف سیاسی جماعت کی حیثیت سے لانگ مارچ ہوتا تو معاملہ مختلف تھا، لیکن موجودہ صورتحال میں صوبائی حکومت بھی اس میں شامل ہے۔

editor

Related Articles