سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کئی دہائیوں سے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پاکستانی فوجی دستوں کی سعودیہ میں موجودگی کی تصدیق

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کئی دہائیوں سے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پاکستانی فوجی دستوں کی سعودیہ میں موجودگی کی تصدیق

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں کی موجودگی کی تصدیق کردی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر   نے سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ وہ تصدیق کرسکتے ہیں کہ پاکستان کی افواج پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں اور یہ بات وہ آزادانہ طور پر تصدیق کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوجی دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں، جبکہ متعدد صلاحیتوں کے حامل پاکستانی دستے بھی کئی دہائیوں سے وہاں موجود ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ مکہ الائنس کوئی ایسا معاملہ نہیں جو اچانک سامنے آیا ہو، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سفارتی، سیاسی، عسکری اور عوامی سطح پر تعلقات  کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مکہ معاہدہ کی آپریشنل تفصیلات خفیہ،خطے میں امن کے خواہاں ہیں ،ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق کررہے ہیں   کہ پاکستانی افواج مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں۔


سی این این کے سینئر بین الاقوامی نامہ نگار آئیون واٹسن نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے خصوصی انٹرویو میں پہلی بار تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستے موجود ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی کہا ہے کہ پاکستانی افواج مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔

آئیون واٹسن نے مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی اور اس حوالے سے مزید تفصیلات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوجی دستے مکہ دفاعی اتحاد کی چھتری تلے سعودی عرب میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد ایک نئی اجتماعی سیکیورٹی تنظیم ہے، جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان شامل ہیں۔ اتحاد کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سفارتی، سیاسی، عسکری اور عوامی سطح پر تعلقات طویل عرصے سے موجود ہیں۔

آئیون واٹسن کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے سعودی عرب میں موجود پاکستانی فوجیوں کی تعداد اور ان کی صلاحیتوں سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ان معاملات سے متعلق معلومات کلاسیفائیڈ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ مکہ اتحاد کے تحت موجود پاکستانی دستوں کی مخصوص صلاحیتیں کیا ہیں، مزید دستے بھیجے جاسکتے ہیں یا نہیں اور آیا یہ دستے یمن کی سرحد کے پار حوثی ملیشیا کے خلاف کسی کارروائی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

مزید تفصیلات شامل کی جارہی ہیں۔۔۔۔

Related Articles