آپریشن سندور میں پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد بھی بھارت باز نہ آیا اورپاکستان کے خلاف سخت بیانات اور عسکری برتری کے دعووں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اور گیدڑ بھبکھیاں بدستور جاری ہیں ۔
سابق بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے آپریشن سندور سے متعلق دعوے کرتے ہوئے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں، چین کے ساتھ عسکری تعاون اور مستقبل میں بھارت کی جانب سے کارروائیوں کے امکانات پر بات کی ہے۔
بالاکوٹ کے بعد بھارت نے سبق نہ سیکھا؟
سابق بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان کے مطابق 2019 میں بالاکوٹ کے واقعے کے بعد بھارت کو یہ احساس ہوا کہ طویل فاصلے تک درست نشانہ لگانے کی صلاحیت ضروری ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ بھارت کی عسکری طاقت پاکستان کی عسکری طاقت کے مقابلے انتہائی کمزور ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی تناظر میں بھارت میں ہنگامی بنیادوں پر دفاعی سازوسامان کی خریداری کے اختیارات بھی دیے گئے تاکہ فوج کو ضرورت کے مطابق فوری وسائل فراہم کیے جاسکیں۔
کیرانہ ہلز میں ڈرون کا واقعہ
آپریشن سندور کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے جنرل انیل چوہان نے کہا کہ 10 مئی کو اسرائیلی ساختہ ہاروپ ڈرون نے پاکستان کے کیرانہ ہلز کے علاقے میں ریڈار اہداف تلاش کرنے کی کوشش کی۔
ڈرون ریڈار کی تلاش کے دوران ایندھن ختم ہونے کے باعث کیرانہ ہلز میں جاگرا، سابق بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے واضح کیا کہ کیرانہ ہلز اس ڈرون کا دانستہ ہدف نہیں تھا ،بھارتی سابق جنرل کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی عسکری محاذ پر مکمل طور پر ناکام ہے ۔
آپریشن سندور سے متعلق من گھڑت کہانی
جنرل انیل چوہان نے آپریشن سندور سے متعلق من گھڑت کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ بہتر صورتحال سے آگاہی اور میدان جنگ میں زیادہ شفافیت کو اہم قرار دیا۔
سابق بھارتی جنرل نے بے باکی سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ بھارتی افواج کا نیٹ ورک زیادہ مربوط تھا اور بری، بحری اور فضائی افواج کو صورتحال سے متعلق معلومات ایک ہی انداز میں دستیاب تھیں، جس سے آپریشن کے دوران فیصلہ سازی میں مدد ملی حالانکہ وہ خود ہی ڈورن کا ذکر کرتے ہوئے بتا چکے کہ ریڈار ہدف تلاش کرنے میں بھی ناکامی ہوئی۔
پاکستان کی سیٹلائٹ صلاحیتوں کا ذکر
سابق بھارتی فوجی افسر نے پاکستان کی انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کی صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان نے انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے چار سیٹلائٹس لانچ کیے ہیں ،اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے بھارت پاکستان کی عسکری طاقت سے انتہائی خوفزدہ ہے اور صرف بیانات سے اپنے عوام کو چورن بیچنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
چینی سیٹلائٹس سے متعلق دعویٰ
چینی سیٹلائٹ تصاویر کے استعمال سے متعلق جنرل انیل چوہان نے کہا کہ تجارتی سیٹلائٹ سہولیات متعدد امریکی اور چینی کمپنیوں کی جانب سے دستیاب ہیں اور کوئی بھی ان سے تصاویر حاصل کرسکتا ہے۔
پاکستان نے اپنے حملوں کے نتائج جاننے اور اہداف سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے تصاویر حاصل کرنے کی کوشش کی، جس میں چینی تجارتی سیٹلائٹس بھی شامل تھے۔
پاکستان اور چین کا دفاعی تعاون
جنرل انیل چوہان نے پاکستان اور چین کے دفاعی تعلقات کا بھی ذکر کیا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دفاعی پلیٹ فارمز کا بڑا حصہ چینی ساختہ ہے، جس میں زمینی اور فضائی پلیٹ فارم شامل ہیں۔
آپریشن سندور کو نیا معمول قرار دے دیا
سابق بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے آپریشن سندور کو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں ایکنیا معمول قرار دیاانہوں نے مستقبل میں بھارت کی جانب سے اپنی مرضی کے مطابق کہیں بھی کارروائی کرنے کی صلاحیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ بھارت کو ضرورت پڑنے پر کسی بھی مقام پر کارروائی کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا دفاعی تعاون دشمن کو کھٹکنے لگا
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے بھی جنرل انیل چوہان نےکہا کہ جب تک پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدے کو واضح طور پر بھارت کے خلاف نہ ہونے کا قرار نہیں دیا جاتا، بھارت کو اسے اپنے لیے سیکیورٹی مضمرات رکھنے والا معاملہ سمجھنا چاہیے۔
بھارتی بیانیے میں پھر طاقت کا اظہار
آپریشن سندور کے بعد بھارتی بیانیے میں ایک مرتبہ پھر عسکری طاقت، طویل فاصلے تک کارروائی کی صلاحیت اور پاکستان کے خلاف مستقبل کی کارروائیوں کے اشارے نمایاں ہوگئے ہیں۔
تاہم سابق بھارتی عسکری قیادت کے بیانات میں آپریشن کے دوران ڈرون، سیٹلائٹ نگرانی اور ہدف شناسی سے متعلق جن پیچیدگیوں کا ذکر سامنے آیا ہے، وہ یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ جدید جنگی ٹیکنالوجی کے باوجود میدانِ جنگ میں ہر کارروائی منصوبے کے مطابق مکمل ہونا ضروری نہیں۔
عوام کو پھر عسکری چورن
پاکستان کے خلاف مسلسل سخت بیانات اورعسکری برتری کے دعووں کے ذریعے بھارتی حکام ایک مرتبہ پھر اپنی عوامی سطح پر طاقت کا تاثر قائم کرنے کی ناکام کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
آپریشن سندور کے بعد بھی گیدڑ بھبکیوں کا یہ سلسلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت میں عسکری بیانیے کو سیاسی اور عوامی سطح پر تقویت دینے کی کوششیں جاری ہیں ۔
پاکستانی عوام کی جانب سے شدید رد عمل
بھارتی کی سابق عسکری قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات پر پاکستانی عوام نے سوشل میڈیا کے ذریعے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے سوشل میڈیا پر جاری پیغامات میں کہا گیا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستانی مسلح افواج نے بھارتی فوج کے عزائم کو ناکام بنایا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا۔
بھارتی دعووں سے مرعوب نہیں ہوں گے
پاکستانی عوام کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ردعمل میں کہا گیا کہ بھارتی دعووں اور دھمکیوں سے پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔ صارفین کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی فوج کو مؤثر جواب دیا اور بھارتی کارروائی کے عزائم کو ناکام بنا کر اپنی دفاعی صلاحیت ثابت کی۔
کسی بھی مہم جوئی کا دندان شکن جواب
سوشل میڈیا پر مختلف پیغامات میں بھارتی بیانات کو گیدڑ بھبکیاں قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر بھارت نے مستقبل میں کسی بھی قسم کی مہم جوئی یا جارحانہ کارروائی کی کوشش کی تو پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے پہلے سے بھی زیادہ سخت اور دندان شکن جواب دیا جائے گا۔
مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں
پاکستانی عوام کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ملکی دفاع اور قومی سلامتی کے معاملے پر پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ متحد ہوکر کیا جائے گا۔
بلند بانگ دعووں سے حقائق نہیں بدلتے
سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی قیادت اور سابق عسکری حکام کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ محض بلند و بانگ دعووں سے زمینی حقائق تبدیل نہیں کیے جاسکتے آپریشن سندور کے دوران سامنے آنے والے واقعات نے خطے میں طاقت کے توازن اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت کے حوالے سے واضح پیغام دیا۔
بھارت کو ممکنہ نتائج کا خیال رکھنا ہوگا
پاکستانی عوام کے سوشل میڈیا ردعمل میں بھارت کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل اسے اس کے ممکنہ نتائج کو سامنے رکھنا ہوگا اور پاکستان کی خودمختاری و سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کا بھرپور فیصلہ کن اور سخت ترین جواب افواج پاکستان اور عوام پاکستان کی طرف سے دیا جائے گا ۔