بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے سے متعلق کیس کی سماعت 16 ستمبر کو سپریم کورٹ میں ہوگی، جبکہ حکومت کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست بھی اسی روز سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے 18 ستمبر تک کا عدالتی روسٹر جاری کردیا ہے، جس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے ہسپتال منتقلی کیس کی سماعت کرنے والا تین رکنی بنچ 14 سے 16 ستمبر تک دستیاب ہوگا۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 14 ستمبر سے مقدمات کی باقاعدہ سماعت کرے گا، بنچ میں جسٹس نعیم افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل ہیں،بانی پی ٹی آئی کے ہسپتال منتقلی کیس کو 16 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
18 اگست کے عدالتی فیصلے کے خلاف حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست بھی 16 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے،اسی روز پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر ہے۔
عدالت میں توہین عدالت کی نوعیت کی 94 درخواستیں پہلے سے زیرالتوا ہیں،ڈاکٹر عظمیٰ کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست بھی فکسیشن پالیسی کے تحت اپنی باری پر سماعت کے لیے مقرر ہوگی۔
فکسیشن پالیسی کے تحت متعلقہ درخواستوں کو مقررہ ترتیب اور باری کے مطابق سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،16 ستمبر سے قبل متعلقہ تین رکنی بنچ سپریم کورٹ میں دستیاب نہیں ہوگا، جس کے باعث بانی پی ٹی آئی کے ہسپتال منتقلی کیس اور متعلقہ درخواستوں کی سماعت 16 ستمبر کو ہونے کا امکان ہے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کی جانب سے جلد سماعت کے لیے دائر درخواستوں پر رجسٹرار آفس نے نمبر بھی الاٹ کردیئے ہیں، تاہم ان درخواستوں کی سماعت فکسیشن پالیسی کے تحت مقررہ باری پر ہوگی۔
یوں بانی پی ٹی آئی کے ہسپتال منتقلی کیس کے ساتھ 18 اگست کے فیصلے کے خلاف حکومتی نظرثانی درخواست اور حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کی توہین عدالت درخواست بھی 16 ستمبر کو تین رکنی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر ہیں۔