سرحد یونیورسٹی معاملہ ، جدون گینگ آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر شاہد قریشی کی جرات مندانہ رپورٹنگ پر ہراساں کرنے لگا

سرحد یونیورسٹی معاملہ ، جدون گینگ آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر شاہد قریشی کی جرات مندانہ رپورٹنگ  پر ہراساں کرنے لگا

سرحد یونیورسٹی میں موجود جدون مافیا کی جانب سے آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر کو روکنے، ہراساں کرنے اور خبر کے ذرائع سے متعلق سوالات کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر شاہد قریشی کو یونیورسٹی میں اس وقت روکا گیا جب وہ گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے رپورٹ کرنے وہاں پہنچے تھے۔

گزشتہ روز پروفیسر جدون کے حوالے سے حقائق سامنے لانے کے بعد جب آزاد ڈیجیٹل کا رپورٹر یونیورسٹی پہنچا تو اسے ہراساں کیا گیا اور وہاں موجود جدون مافیا کی جانب سے غنڈہ گردی کی گئی سوالات کیے گئے اور خبر کے ذرائع پوچھے جانے لگے،آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر سے پوچھا گیا کہ اس کے پاس واٹس ایپ کے اسکرین شاٹس کہاں سے آئے اور طلبا اس کے ساتھ کہاں سے آئے؟

سورس بتانے سے انکار

رپورٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو خبر یا معلومات پر اعتراض ہے تو وہ قانونی چارہ جوئی کرسکتا ہے، تاہم وہ اپنے ذرائع کے بارے میں کسی کو نہیں بتائے گا، چاہے اس کے لیے اسے چیف جسٹس کے سامنے پیش کیا جائے یا پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔

دباؤ قبول نہ کرنے کا مؤقف

آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر کے مطابق اس نے واضح کیا کہ صحافتی معلومات کے ذرائع ظاہر کرنا اس کے لیے قابل قبول نہیں اور وہ کسی بھی دباؤ کے باوجود اپنے سورس کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں :یوتھیوں نےسرحد یونیورسٹی واقعہ کو سوشل میڈیا پر غلط رنگ دیا، شہریوں کی آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو

فیکلٹی ممبران بھی پہنچ گئے

آزاد ڈیجیٹل کا رپورٹر جب موقع پر پہنچا تو یونیورسٹی کے متعدد فیکلٹی ممبران بھی وہاں آئے، رپورٹر شاہد قریشی نے ان سے کہا کہ وہ قانونی کارروائی کے لیے تیار ہے، تاہم کسی دباؤ کے سامنے نہیں آئے گا۔

جدون سے وابستہ گروہ 

آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر کے مطابق یونیورسٹی میں ڈاکٹر جدون سے وابستہ افراد کا ایک گروہ موجود ہے اور اس گروہ کی جانب سے لوگوں کو ہراساں کیا جاتا ہے،آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر نے کہا کہ ادارہ حقائق کو سامنے لانے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور قارئین تک سچ پہنچانے کی کوشش کرتا رہے گا۔

واٹس ایپ چیٹ بھی سامنے آئی

یاد رہے کہ آزاد ڈیجیٹل نے سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے سے قبل یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران کے واٹس ایپ گروپ کی چیٹ حاصل کی تھی، جس میں ڈاکٹر آئنہ اپنے ساتھ پیش آنے والے ہراسگی کے واقعے سے متعلق ممبران کو آگاہ کررہی تھیں۔

طالبات کی شکایات

سرحد یونیورسٹی سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق پروفیسر جدون کے حوالے سے طالبات کی جانب سے شکایات سامنے آئی تھیں کہ وہ مبینہ طور پر پیسے بھی مانگتے تھے۔

وائس پریزیڈنٹ کو شکایت

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر آئنہ نے ان شکایات کے حوالے سے یونیورسٹی کے وائس پریزیڈنٹ کو رپورٹ کیا تھا، جس کے بعد وائس پریزیڈنٹ نے حکم جاری کرتے ہوئے پروفیسر جدون کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ انہیں جمعہ کے روز عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

  دھمکیوں کا معاملہ

ذرائع کا کہنا تھا کہ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد پروفیسر جدون نے ڈاکٹر آئنہ کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی تھیں۔ ڈاکٹر آئنہ نے اپنے شوہر کو بتانے کے بجائے پولیس ایمرجنسی 15 پر کال کی تھی۔

پولیس کو شکایت

جمعہ کے روز ڈاکٹر آئنہ نے پولیس کو شکایت کی تھی، جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی۔ ڈاکٹر آئنہ نے وائس پریزیڈنٹ کو بھی بتایا تھا کہ وہ ایف آئی آر درج کروانے جارہی ہیں۔

تھانے پہنچنے کی تفصیل

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے مالک ریاض، وائس پریزیڈنٹ کے ہمراہ تھانے پہنچے تھے اور درخواست کی تھی کہ پروفیسر جدون کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کی جائے،ذرائع کے مطابق پروفیسر جدون نے بعد ازاں ڈاکٹر آئنہ سے معافی بھی مانگی تھی اور معافی نامہ جمع کروایا تھا۔ جمعہ کے روز دھمکیوں کی رپورٹ ہونے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی۔

شوہر کو صورتحال سے آگاہ کیا

ویک اینڈ پر جب ڈاکٹر آئنہ گھر پہنچی تھیں تو انہوں نے اپنے شوہر لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ان کے شوہر نے اس وقت صورتحال کو معمول پر رکھنے کی کوشش کی تھی۔

editor

Related Articles