عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا پلان کب تبدیل ہوا؟بیرسٹر گوہر کا اہم بیان

عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا پلان کب تبدیل ہوا؟بیرسٹر گوہر کا اہم بیان

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی کا منصوبہ آخری لمحے میں تبدیل کیا گیا، جس کے باعث ان کی جماعت کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی کا شفا اسپتال میں علاج ہوجاتا تو بہت اچھا ہوتا۔

داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کا پلان آخری وقت میں تبدیل ہوا، تاہم وہ مایوس نہیں اور دوبارہ کوششیں کریں گے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ رابطے ختم نہیں کیے جاتے اور بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر اب بھی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اب تک جتنی بھی بات چیت ہوئی تھی وہ صرف بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے تھی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی نے اپنے اعلامیے کے ذریعے بھی واضح کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال نہ لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال کے بجائے پمز منتقل کیا گیا، تاہم وہاں بھی ان کے بقول وہ علاج نہیں کیا گیا جو ضروری تھا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر آج بھی عمل ہوسکتا ہے، اگر اسے سننے والے سن رہے ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر نمبر بھی لگ گیا ہے اور جلد سماعت کی درخواست کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کی فیک نیوز فیکٹریاں سر گرم، عمران خان کی اے آئی تصاویر کی سوشل میڈیا پر بھرمار

بیرسٹر گوہر کے مطابق ان کی توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد سے متعلق ہے اور یہ سول توہین عدالت کا معاملہ ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن اب قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے گی۔

ان کے مطابق اپوزیشن جماعتیں عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کا احتساب بھی کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اپوزیشن جماعتوں کا متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے عدلیہ، الیکشن کمیشن اور صوبائی معاملات کے حوالے سے بھی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ان کی جماعت نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی ایسا کہا ہے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی ایک بہن نے ضرور بات کی تھی جس میں بتایا گیا کہ انہیں پمز منتقل کیا گیا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ گزشتہ منگل بانی پی ٹی آئی سے ہونے والی ملاقات پر نورین نیازی خوش تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لیے بانی کی صحت اور سیکیورٹی اہم ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست اور بیان بازی نہیں ہونی چاہیے اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد ہونا چاہیے تھا۔

ان کے بقول بانی پی ٹی آئی کا علاج ایک سیدھا معاملہ تھا اور جس شخص نے بھی اس معاملے کو روکا، اس نے اچھا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس نے بھی آخری لمحے میں بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کا منصوبہ تبدیل کیا، اس نے غلط کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پرتشدد سیاست تحریک انصاف کا وطیرہ بن چکا ،مال روڈ فائرنگ واقعہ نے پی ٹی آئی کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا، عطاء تارڑ

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا رابطہ تھا اور رابطے ہوتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی کہا تھا کہ ان کی بات ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے خود پی ٹی آئی کو بھی سیکیورٹی خدشات تھے، تاہم حکومت نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ شفا اسپتال منتقلی کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات موجود ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے اپنی اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقات سے متعلق زیر گردش سی سی ٹی وی کو بھی جعلی قرار دیا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور سیکیورٹی ان کے لیے اہم ہے اور اس معاملے کو سیاسی بیان بازی کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد ہونا چاہیے تھا اور بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق معاملے کو مزید پیچیدہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

Related Articles