دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ آئی پی پیز کو ادائیگیاں، 11 ماہ میں 2.935 ٹریلین روپے خرچ؛ ڈیم اور نئے صوبے ناگزیر

دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ آئی پی پیز کو ادائیگیاں، 11 ماہ میں 2.935 ٹریلین روپے خرچ؛ ڈیم اور نئے صوبے ناگزیر

وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران آئی پی پیز کو دفاعی بجٹ (10 ارب ڈالر) سے بھی زیادہ یعنی 12 ارب ڈالر (2.935 ٹریلین روپے) کی رقوم ادا کر دی ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سنگین صورت حال کا واحد حل نئے صوبوں کا قیام ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بھاری بھرکم رقم سے ملک میں کئی نئے ڈیم تعمیر کیے جا سکتے تھے، لیکن ڈیم بنانے کے بجائے بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کو اربوں ڈالر لوٹائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ معاشی اور انتظامی ڈھانچے کی اس گھمبیر صورت حال میں نئے صوبوں کا بننا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس طرح کے مالیاتی بوجھ کا واحد حل انتظامی تقسیم اور نئے صوبوں کا قیام ہے۔

نیپرا کے طے شدہ نرخوں کی پابندی

وزارت توانائی کی جانب سے جاری کردہ وضاحت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومت نے کسی بھی پاور پلانٹ کو مقررہ حد سے زیادہ ادائیگی نہیں کی۔

وزارت کے مطابق تمام ادائیگیاں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (‘نیپرا’) کے طے شدہ ٹیرف اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے عین مطابق کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق جون 2026 کی بلنگ کا عمل تاحال مکمل نہیں ہو سکا ہے، جس کے بعد اس مجموعی رقم میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

 ہائیڈل اور نیوکلیئر پاور کی سستی پیداوار

اعداد و شمار کے تفصیلی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ پن بجلی (ہائیڈرو پاور) کے منصوبوں نے اس عرصے میں سب سے زیادہ 34,234 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی، جس کے عوض انہیں 375.04 ارب روپے ادا کیے گئے۔

دوسری جانب ایٹمی توانائی (نیوکلیئر پاور) کے پلانٹس نے 21,031 گیگا واٹ آورز بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کی، جس کے لیے حکومت نے 469.44 ارب روپے کی ادائیگی کی۔

درآمدی کوئلہ اور آر ایل این جی کے بھاری بل

مہنگے ایندھن سے بجلی بنانے والے کارخانوں نے قومی خزانے پر سب سے زیادہ بوجھ ڈالا ہے۔ درآمدی کوئلے سے چلنے والے پلانٹس نے محض 12,048 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی، لیکن انہیں سب سے زیادہ 637.91 ارب روپے ادا کیے گئے۔

اسی طرح، آر ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس سے 16,097 گیگا واٹ آورز بجلی حاصل کی گئی اور انہیں 527.10 ارب روپے کی خطیر رقم جاری کی گئی۔

متبادل توانائی اور گیس کے منصوبے

مقامی گیس سے چلنے والے کارخانوں نے 10,588 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی، جس کے بلوں کی مد میں 200.84 ارب روپے ادا کیے گئے۔

ہوا سے بجلی بنانے والے ونڈ پاور پلانٹس نے 3,804 گیگا واٹ آورز پیداوار کے بدلے 144.43 ارب روپے وصول کیے۔

شمسی توانائی (سولر پاور) کے منصوبوں نے اس عرصے میں 1,074 گیگا واٹ آورز بجلی بنائی، جس کے لیے انہیں 36.51 ارب روپے ادا کیے گئے۔

علاوہ ازیں،گنے کے پھوک (بگاس) سے چلنے والے پلانٹس نے 714 گیگا واٹ آورز پیداوار دی اور 14.82 ارب روپے حاصل کیے۔

پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ‘آئی پی پیز’ کو کی جانے والی ادائیگیاں ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہی ہیں۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں گراوٹ اور درآمدی ایندھن (کوئلہ اور ایل این جی) کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث کیپیسٹی پیمنٹس اور پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔

یہ 2.935 ٹریلین روپے (12 ارب ڈالر) کا حجم اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ملکی معیشت کا ایک بہت بڑا حصہ صرف بجلی کی قیمت چکانے میں صرف ہو رہا ہے، جو بالآخر گردشی قرضوں اور عوام کے لیے مہنگی بجلی کا سبب بنتا ہے۔

جون کی بلنگ مکمل ہونے کے بعد یہ اعداد و شمار مزید تشویش ناک ہونے کا امکان ہے۔

Related Articles