چیف الیکشن کمشنر اور دو ارکان کی تقرری،وزیراعظم شہباز شریف کا اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کو خط

چیف الیکشن کمشنر اور دو ارکان کی تقرری،وزیراعظم شہباز شریف کا اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کو خط

وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نئے چیف الیکشن کمشنر اور دو ارکان کی تقرری کے معاملے پر رابطہ ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے خط کا جواب بھجوا دیا ہے، جس میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری آئینی طریقہ کار کے مطابق کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے معاملے پر بھیجا گیا خط محمود خان اچکزئی کو موصول ہوگیا ہے۔ وزیراعظم نے خط میں آئینی طریقہ کار پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی اس وقت کوئٹہ میں موجود ہیں اور آئندہ دو سے تین روز میں اسلام آباد پہنچیں گے۔

اپوزیشن لیڈر وزیراعظم کے خط پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مشاورت کریں گے جبکہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔

تقرری کا آئینی طریقہ کار

چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کی تقرری کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت ضروری ہوتی ہے۔

وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی جانب سے کسی نام پر اتفاق کی صورت میں مجوزہ نام منظوری کے لیے پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائے جاتے ہیں۔

تاہم وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں دونوں جانب سے ہر عہدے کے لیے تین، تین نام پارلیمانی کمیٹی کو دیے جاتے ہیں، جو ان ناموں میں سے حتمی فیصلہ کرتی ہے۔

موجودہ چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی مدت مکمل

موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ، سندھ سے الیکشن کمیشن کے رکن نثار درانی اور بلوچستان سے رکن شاہ محمد جتوئی کی پانچ سالہ مدت 26 جنوری 2025 کو مکمل ہوگئی تھی۔

اس کے بعد آئین کے آرٹیکل 215 (4) کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری 45 روز کے اندر مکمل ہونا تھی۔

تاہم 12 مارچ 2025 کو آئینی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے مذکورہ دو ارکان کی جگہ نئے عہدیداروں کی تقرری نہیں کی گئی۔

26ویں آئینی ترمیم کے بعد موجودہ عہدیدار برقرار

گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ارکان کو نئے اراکین کی تقرری تک اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔

چیف الیکشن کمشنر کے لیے اہلیت

چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے مقررہ شرائط کے تحت سابق سپریم کورٹ ججز، ٹیکنوکریٹس اور 68 سال سے کم عمر بیوروکریٹس اہل ہوتے ہیں۔

اسی طرح الیکشن کمیشن کے ارکان کے لیے ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججز، بیوروکریٹس اور 65 سال سے کم عمر ٹیکنوکریٹس کے نام زیرِ غور لائے جاسکتے ہیں۔

Related Articles