عالمی غذائی مہنگائی کا خدشہ، پاکستان کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی، اسٹیٹ بینک نے خبردار کردیا

عالمی غذائی مہنگائی کا خدشہ، پاکستان کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی، اسٹیٹ بینک نے خبردار کردیا

پاکستان میں مہنگائی کے دباؤ سے پہلے ہی پریشان عوام کے لیے ایک اور تشویشناک خبر سامنے آگئی ہے جہاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق  خبردار کردیا ۔ 

میڈیا رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک نے متنبہ کیا ہے کہ  گیس اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی اور ایل نینو کا ممکنہ خطرہ عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں کو توقع سے زیادہ بڑھا سکتا ہے اور اس کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچنے کے امکانات موجود ہیں ۔

اسٹیٹ بینک کی ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ نے عالمی توانائی اور گیس کی منڈی کو متاثر کیا ہے،  دوسری جانب قطر سے ایل این جی کی سپلائی میں خلل کے باعث کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں زرعی اجناس کی پیداواری لاگت بھی بڑھ گئی۔

عالمی غذائی مہنگائی کیوں بڑھ سکتی ہے؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2027 کی پہلی ششماہی کے دوران گیس کی بلند قیمتیں عالمی غذائی مہنگائی پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں،  اس کے ساتھ ایل نینو کا ممکنہ اثر بھی صورتحال کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔

یعنی اگر توانائی، گیس اور کھاد کی قیمتیں بلند رہتی ہیں اور موسمی حالات بھی سازگار نہ رہے تو دنیا بھر میں زرعی پیداوار کی لاگت بڑھ سکتی ہے،  اس کا براہ راست اثر غذائی اجناس کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان کا زرعی شعبہ پہلے ہی دباؤ میں

اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کا زرعی شعبہ پہلے ہی کئی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے جس میں پانی کی قلت، فرسودہ آبپاشی نظام ، مہنگی کھاد، بجلی اور بیجوں سمیت بلند پیداواری لاگت نے کسانوں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔

اس کے علاوہ غیر یقینی موسمی حالات بھی زرعی پیداوار کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں،  اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر چھوٹے کسانوں پر پڑ رہا ہے، جن کے لیے پیداواری لاگت میں معمولی اضافہ بھی بڑا مالی دباؤ بن سکتا ہے۔

پاکستانی غذائی برآمدات میں نمایاں کمی

رپورٹ میں پاکستان کی غذائی مصنوعات کی برآمدات میں بھی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے ، مالی سال 2026 میں غذائی مصنوعات کی برآمدات 25 فیصد کم ہوکر 4 ارب 74 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ 6 ارب 33 کروڑ ڈالر تھیں۔

یہ بھی پڑھیں :امریکا ایران کشیدگی کے اثرات، ورلڈ بینک نے عالمی اقتصادی سست روی اور مہنگائی سے خبردار کردیا

خاص طور پر چاول کی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال 2026 میں چاول کی برآمدات 31 فیصد کم ہوکر 2 ارب 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 2 ارب 95 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھیں۔

مستقبل کی صورتحال

عالمی غذائی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک کا زرعی شعبہ پہلے ہی توانائی، پانی، کھاد اور موسمیاتی مسائل سے دوچار ہے۔

اگر عالمی سطح پر غذائی اجناس مہنگی ہوتی ہیں تو اس کے اثرات مقامی مارکیٹ، کسانوں کی پیداواری لاگت اور غذائی اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں تاہم اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں یہ صورتحال ایک خدشے اور ممکنہ خطرے کے طور پر بیان کی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کی تجارتی شرائط کو بھی توقع سے زیادہ نقصان پہنچا ہے،  دوسری طرف عالمی معاشی نمو کے امکانات بھی جنوری کے مقابلے میں زیادہ غیر یقینی ہوگئے ہیں ، اس صورتحال کے باعث آنے والے عرصے میں عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستان کے لیے مزید اہمیت اختیار کر سکتی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی غذائی مہنگائی کا اندازہ عالمی بینک کے کموڈیٹی پرائس ڈیٹا کے تحت جاری کیے جانے والے فوڈ پرائس انڈیکس سے لگایا جاتا ہے، اس انڈیکس میں اناج، چینی، خوردنی تیل اور گوشت سمیت اہم غذائی اشیا کی قیمتیں شامل ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :جعلی ویزا ویب سائٹ، بیورو آف امیگریشن نے شہریوں کو خبردار کردیا

یوں عالمی خوراک کی قیمتوں، توانائی کے نرخوں اور موسمی حالات میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستان کے زرعی شعبے اور غذائی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

editor

Related Articles