انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران اسکواڈ سے نکالے جانے والے بلے باز سلمان آغا نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے پریذیڈنٹ ٹرافی میں ناقابلِ شکست 300 رنز کی تاریخی اننگز کھیل ڈالی ہے۔ایبٹ آباد کے میدان میں انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اپنے کیریئر کی بہترین اننگز قرار دیا۔
قومی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز سلمان علی آغا نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی واپسی کو شاندار انداز میں یادگار بنا لیا ہے۔
انگلینڈ کے دورے میں ناقص کارکردگی کے باعث تنازعات کی زد میں آنے والی ٹیسٹ ٹیم سے وطن واپس بھیجے جانے کے 15 روز بعد ہی بلے بازی کے شاندار جوہر دکھائے ہیں۔
شاندار اننگز اور کیریئر کی بہترین کارکردگی
سلمان آغا نے ایبٹ آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پریذیڈنٹ ٹرافی کے پہلے راؤنڈ میں کنگز مین اکیڈمی کی نمائندگی کرتے ہوئے مارخور آئی ٹی سلوشنز کے خلاف 336 گیندوں پر 300 رنز کی شاندار ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔ یہ ان کے فرسٹ کلاس کیریئر کا سب سے بڑا اسکور ہے، اس سے قبل ان کا بہترین انفرادی اسکور 169 رنز تھا۔
تکنیک میں تبدیلی اور فیملی کے نام خراجِ تحسین
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں سلمان آغا کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند سیریز میں ان کی فارم بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں تھی۔
انہوں نے بتایا کہ بیٹنگ میں کی گئی معمولی ’ایڈجسٹمنٹس‘ نے فارم بحال کرنے میں بہت مدد کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے سنگِ میل زندگی میں ایک بار ہی آتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ ان کے لیے ایک مشکل وقت تھا اور انہوں نے اس تاریخی اننگز کو اپنے خاندان کے نام کیا۔
مشکل صورتحال میں طویل شراکت داری
میچ کے دوران ایک موقع پر کنگز مین اکیڈمی محض 72 رنز پر اپنے 3 اہم بلے بازوں سے محروم ہو چکی تھی۔ اس دباؤ والے موقع پر سلمان آغا نے محمد سلیمان کے ساتھ مل کر چوتھی وکٹ کے لیے 274 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی، جس کی بدولت ان کی ٹیم 565 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈکلیئر کرنے میں کامیاب رہی۔
28 فرسٹ کلاس میچوں کا تجربہ رکھنے والے حیدرآباد کے 27 سالہ محمد سلیمان نے بھی بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے کیریئر کی چھٹی سنچری اسکور کی۔
سلمان آغا حالیہ بین الاقوامی کرکٹ میں رنز بنانے کے لیے شدید جدوجہد کر رہے تھے۔ گزشتہ 3 ٹیسٹ میچوں کی 5 اننگز میں وہ محض 45 رنز ہی بنا پائے تھے، جس کے بعد انہیں لارڈز ٹیسٹ سے قبل اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔
انگلینڈ نے اس متنازع سیریز میں پاکستان کو 3-0 سے کلین سویپ کیا تھا۔ واضح رہے کہ قومی ٹیم نے اپنے گزشتہ 21 میچوں میں سے 16 میں شکست کھائی ہے اور وہ 9 رکنی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں اس وقت سب سے آخری نمبر پر ہے۔
ان مسلسل ناکامیوں کے بعد پی سی بی نے ’اے‘ اور ’اے بی‘ کیٹیگری کے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کے لیے بالترتیب 6 اور 4 ڈومیسٹک فرسٹ کلاس میچز کھیلنا لازمی قرار دیا ہے۔
اسی قانون کے تحت 2019 کے بعد پہلی بار شاہین شاہ آفریدی بھی پشاور کے عمران خان اسٹیڈیم میں کے آر ایل کی طرف سے ڈومیسٹک میچ کھیل رہے ہیں۔
سلمان آغا کی یہ اننگز ان کے گرتے ہوئے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے کسی ٹانک سے کم نہیں ہے۔ اگرچہ مخالف ٹیم کا باؤلنگ اٹیک بین الاقوامی تجربے سے محروم تھا کیونکہ دونوں ٹیمیں گزشتہ سال ہی پروموٹ ہو کر فرسٹ کلاس ڈیبیو کر رہی ہیں، لیکن کریز پر اتنا طویل وقت گزارنا ہمیشہ بلے باز کی تکنیک اور شاٹ سلیکشن کو نکھارتا ہے۔
بین الاقوامی کرکٹ کے دباؤ سے نکل کر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا کھلاڑیوں کو اپنی خامیوں پر کام کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
پی سی بی کا سینٹرل کنٹریکٹ میں ڈومیسٹک کرکٹ کی شرط شامل کرنا ایک انتہائی زبردست پالیسی شفٹ ہے، جس سے نہ صرف بین الاقوامی ستاروں کی فارم بحال ہوگی بلکہ مقامی کرکٹرز کو بھی اپنے ہیروز کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کر کے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ یہ قدم مجموعی طور پر پاکستان کے فرسٹ کلاس اسٹرکچر کو مضبوط کرے گا۔