نئے صوبوں کا معاملہ پارلیمنٹ میں آیا تو ن لیگ کیا مؤقف اپنائے گی؟

نئے صوبوں کا معاملہ پارلیمنٹ میں آیا تو ن لیگ کیا مؤقف اپنائے گی؟

نئے صوبوں کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) نے فی الحال اپنا حتمی مؤقف سامنے نہیں لایا، تاہم پارٹی قیادت کی حالیہ مشاورت کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سیاسی طور پر اہم ہوگیا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ اگر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کا معاملہ باقاعدہ پارلیمنٹ میں آیا تو مسلم لیگ (ن) کس مؤقف کے ساتھ سامنے آئے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی زیرصدارت ہونے والے حالیہ مشاورتی اجلاس میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر غور کیا گیا، جبکہ اجلاس میں اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کے فیصلے کا خیرمقدم بھی کیا گیا۔ شرکا نے عوامی خواہشات اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے پر اتفاق کیا۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے تاحال کسی مخصوص نئے صوبے کی حمایت یا مخالفت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ واضح کرچکے ہیں کہ نئے صوبوں کا حتمی فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے اور جب معاملہ پارلیمان کے سامنے آئے گا تو ن لیگ اپنا پالیسی مؤقف پیش کرے گی۔

رانا ثناء اللہ کے مطابق پارٹی اپنے مؤقف کی تشکیل کے دوران عوامی رائے کو بھی مدنظر رکھے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے غوروفکر اور مشاورت کرے گی، جبکہ ضلعی اور یونین کونسل کی سطح پر موجود پارٹی کارکنوں کی رائے بھی پالیسی کی تشکیل میں شامل کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:کلٹس گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، بنک کی نئی آفر آ گئی

یہی وجہ ہے کہ ن لیگ کیلئے معاملہ محض کسی ایک صوبے کی تقسیم کا نہیں بلکہ پورے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے ممکنہ قیام کے وسیع تر سیاسی، آئینی اور انتظامی اثرات کا ہے۔ پارٹی کے اندر اس معاملے پر مختلف آرا موجود ہونے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے، تاہم حتمی فیصلہ پارٹی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

پارٹی کے اندر حتمی پالیسی آنے تک رہنماؤں کو اس معاملے پر محتاط رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ نواز شریف اس سے قبل پارٹی رہنماؤں کو نئے صوبوں سے متعلق بیانات اور تبصروں سے گریز کرنے اور حتمی پارٹی پالیسی کا انتظار کرنے کی ہدایت کرچکے ہیں۔

نئے صوبوں کے معاملے میں آئینی پہلو بھی اہم ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق نئے صوبے کا قیام آئینی تقاضے پورے ہونے اور پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے مشروط ہے، اس لیے محض سیاسی بیان یا صوبائی اسمبلی کی قرارداد سے نیا صوبہ وجود میں نہیں آسکتا۔

مسلم لیگ (ن) کیلئے ایک اہم پہلو اس کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کا مؤقف بھی ہے۔ نئے صوبوں کے معاملے پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کا امکان سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے، تاہم نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی اختلافات کے خاتمے اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اس صورتحال میں ن لیگ کے سامنے بنیادی سوال یہ ہوگا کہ وہ نئے صوبوں کی تشکیل کو اصولی طور پر انتظامی ضرورت، عوامی خواہش اور بہتر حکمرانی کے تناظر میں دیکھتی ہے یا موجودہ صوبائی ڈھانچے میں اصلاحات کو ترجیح دیتی ہے۔ پارٹی کے موجودہ بیانات سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ حتمی مؤقف کسی ایک رہنما کے بیان کے بجائے باقاعدہ مشاورت کے بعد سامنے آئے گا۔

سیاسی طور پر سب سے اہم مرحلہ اس وقت شروع ہوگا جب نئے صوبوں سے متعلق کوئی باقاعدہ بل، آئینی ترمیم یا قرارداد پارلیمنٹ میں پیش ہوگی۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کو نہ صرف اپنا واضح مؤقف دینا ہوگا بلکہ اتحادی جماعتوں، دیگر صوبوں اور پارلیمانی جماعتوں کے مؤقف کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔

یوں نواز شریف کی حالیہ مشاورت کے بعد نئے صوبوں کا معاملہ محض بیانات کی حد تک نہیں رہا بلکہ مسلم لیگ (ن) کے اندر باقاعدہ پالیسی سازی کے مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پارلیمنٹ میں معاملہ آنے پر ن لیگ کسی مخصوص نئے صوبے کے حق میں ووٹ دے گی یا مخالفت کرے گی؛ پارٹی کا حتمی مؤقف باقاعدہ مشاورت کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles