پاکستان سمیت دنیا بھر میں معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘فیس بک’ کی سروس اچانک ڈاؤن ہو گئی ہے، جس کے باعث لاکھوں صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔
دنیا کے سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘فیس بک’ کی سروسز میں اچانک بڑی تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی ہے جس نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ویب سائٹس کی بندش اور سروسز میں خلل کو مانیٹر کرنے والے عالمی ادارے ‘ڈاؤن ڈیٹیکٹر’ کے مطابق یہ خلل بیک وقت دنیا کے کئی ممالک میں دیکھا جا رہا ہے جہاں صارفین نے فیس بک لاگ ان کرنے، نیوز فیڈ لوڈ کرنے اور پیغامات بھیجنے میں دشواری کی شکایات کی ہیں۔
‘ڈاؤن ڈیٹیکٹر’ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک ہنگامی پیغام جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ دنیا بھر سے لاکھوں صارفین نے فیس بک کے کام نہ کرنے کی رپورٹس درج کرائی ہیں۔
خرابی کی وجہ سے فیس بک کی موبائل ایپلی کیشن اور ویب ورژن دونوں ہی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس تعطل کے فوراً بعد لاکھوں صارفین نے متبادل کے طور پر ‘ایکس’ کا رخ کیا جہاں ‘فیس بک ڈاؤن’ کا ہیش ٹیگ چند ہی منٹوں میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ میٹا (فیس بک کی بنیادی کمپنی) کی سروسز اس طرح اچانک معطل ہوئی ہوں۔ اس سے قبل بھی ماضی میں ‘ڈومین نیم سسٹم’ (ڈی این ایس) کی خرابی یا مرکزی سرورز پر لوڈ بڑھنے کی وجہ سے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی سروسز کئی گھنٹوں تک بند رہ چکی ہیں۔
فیس بک کی سروس منقطع ہونے سے نہ صرف عام صارفین کا رابطہ کٹ جاتا ہے بلکہ دنیا بھر میں فیس بک کے ذریعے کاروبار چلانے والے لاکھوں ڈیجیٹل کاروباری اداروں کو بھی منٹوں میں کروڑوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ابھی تک میٹا انتظامیہ کی جانب سے اس حالیہ بندش کی اصل تکنیکی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔
فیس بک کا اس طرح اچانک ڈاؤن ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ دور میں عالمی برادری اور عالمی معیشت ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کس قدر انحصار کر رہی ہے۔
فیس بک کی بندش صرف تفریح کا خاتمہ نہیں ہے، بلکہ یہ مواصلات کا ایک ایسا تعطل ہے جو دنیا بھر میں مارکیٹنگ، کاروباری سودوں اور خبروں کی فوری ترسیل کو یکدم بریک لگا دیتا ہے۔
‘ڈاؤن ڈیٹیکٹر’ پر شکایات کی سیلاب نما تعداد ظاہر کرتی ہے کہ صارفین اب بھی کسی بھی دوسرے پلیٹ فارم کے مقابلے میں فیس بک کو رابطے کا اہم ذریعہ مانتے ہیں۔
میٹا کے لیے یہ صورتحال ہمیشہ ایک بڑا دھچکا ثابت ہوتی ہے کیونکہ سروس میں چند منٹوں کا خلل بھی ان کے اسٹاکس اور اشتہارات کی آمدنی کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا سکتا ہے۔