وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد درآمد کرتا ہے، اس لیے موجودہ عالمی صورتحال میں ریاست کے معاملات جذبات یا خواہشات کے بجائے زمینی حقائق اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داری سے چلانا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ عوام پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ پڑے، تاہم ملکی وسائل اور عالمی معاشی حالات کو نظر انداز کرکے نظام نہیں چلایا جاسکتا، حکومت کی کوشش ہے کہ محدود وسائل کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔
عوام کو ریلیف
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت خصوصاً معاشرے کے کمزور ترین طبقے کو عالمی سطح پر پیدا ہونے والے بحران کے اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات کررہی ہے، موجودہ حالات میں حکومت کی توجہ اس بات پر ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ کم سے کم عوام تک منتقل ہو۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے کمزور طبقے کے لیے ہر ماہ 100 روپے فی لیٹر تک ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس مقصد کے لیے خصوصی ریلیف اسکیم بھی متعارف کرائی جارہی ہے، جس میں موٹر سائیکلوں سمیت 2 اور 3 وہیلرز استعمال کرنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا۔
800 سی سی گاڑیاں
وفاقی وزیر کے مطابق ریلیف اسکیم کا دائرہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان تک بھی بڑھایا جائے گا،اس اقدام کا مقصد محدود آمدن رکھنے والے شہریوں کوپیٹرول کی قیمتوں میں عالمی اتار چڑھاؤ کے اثرات سے کچھ حد تک تحفظ فراہم کرنا ہے،انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ریلیف کا فائدہ ان طبقات تک پہنچے جو پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
وزیراعظم کی ہدایت
علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح ہدایت دی ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے طوفان کے سامنے مکمل بند نہیں باندھا جاسکتا تو کم از کم عالمی منڈی میں قیمتیں نیچے آنا شروع ہوتے ہی اس کمی کا فائدہ بھی عوام تک پہنچایا جائے۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو نظر انداز نہیں کرے گی بلکہ قیمتوں میں کمی کی صورت میں اس کا فائدہ بھی شفاف انداز میں عوام کو منتقل کیا جائے گا۔
عالمی قیمتوں کا اثر
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ بیرون ملک سے پورا ہوتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ملکی معیشت اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ایک طرف ملکی معیشت اور ریاستی معاملات کو مستحکم رکھا جائے جبکہ دوسری جانب عوام کو بھی ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا جائے۔
قیمت کم ہوئی تو فائدہ ملے گا
وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہونے کی صورت میں اس کا فائدہ عوام سے نہیں روکا جائے گا۔ قیمتوں میں عالمی سطح پر آنے والی گراوٹ کو شفاف طریقے سے ملکی صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کمزور ترین طبقے کے لیے ریلیف کے اقدامات جاری رکھے گی، جبکہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی عوامی مفاد میں مدنظر رکھا جائے گا۔
یوں حکومت نے ایک طرف عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے عوام کو تحفظ دینے کے لیے ریلیف اسکیم کا اعلان کیا ہے تو دوسری جانب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کی صورت میں اس کمی کا فائدہ بھی براہ راست صارفین تک منتقل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔