سرکاری ملازمین اور طلبا کے لئے خوشخبری، ایک ساتھ تین چھٹیاں

سرکاری ملازمین اور طلبا کے لئے خوشخبری، ایک ساتھ تین چھٹیاں

اقبال ڈے کی مناسبت سے 9 نومبر کو عام تعطیل کے باعث سرکاری ملازمین اور طلبہ کو مسلسل 3 چھٹیاں ملنے کا امکان ہے۔ ہفتہ اور اتوار کی ہفتہ وار تعطیلات کے ساتھ یومِ اقبال کی چھٹی ملنے سے تین روزہ تعطیلات کا موقع بن سکتا ہے۔

سرکاری کیلنڈر کے مطابق یومِ اقبال کی تعطیل پیر 9 نومبر کو ہوگی، جبکہ اس سے قبل ہفتہ اور اتوار کی ہفتہ وار چھٹیاں ہوں گی۔ اس طرح سرکاری ملازمین کو مسلسل تین روز چھٹیاں ملنے کا امکان ہے۔

تعلیمی اداروں میں بھی 7 نومبر سے 9 نومبر تک تعطیلات ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث طلبہ بھی تین روزہ چھٹیوں سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ تاہم تعطیلات کے حوالے سے متعلقہ حکام کے باضابطہ اعلان کو حتمی سمجھا جائے گا۔

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے یومِ ولادت کو ہر سال یومِ اقبال کے طور پر منایا جاتا ہے۔ علامہ اقبال شاعرِ مشرق، مفکرِ پاکستان اور قومی شاعر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔

یومِ اقبال کے موقع پر تعلیمی، ادبی اور سماجی اداروں کے زیرِ اہتمام خصوصی تقریبات، مذاکروں، مباحثوں اور تقریری مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن کا مقصد علامہ اقبال کے افکار، شاعری اور فلسفے کو اجاگر کرنا ہے۔

علامہ اقبال نے اپنی شاعری اور سیاسی بصیرت کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں خودی، آزادی اور جداگانہ قومی شناخت کا شعور بیدار کیا۔ ان کے افکار نے تحریکِ پاکستان کی فکری بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

خطبۂ الٰہ آباد اور قیامِ پاکستان کا تصور

علامہ اقبال نے 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں الٰہ آباد کے مقام پر اپنا تاریخی خطبہ پیش کیا، جسے خطبۂ الٰہ آباد کہا جاتا ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ سیاسی وحدت کا تصور پیش کیا اور ان کے مذہبی، ثقافتی اور اجتماعی تشخص کے تحفظ پر زور دیا۔

علامہ اقبال کے اس تصور نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا۔ بعدازاں مسلم لیگ کی قیادت اور کارکنوں کی کوششوں سے الگ ریاست کا مطالبہ تحریکِ پاکستان کے مرکزی مقاصد میں شامل ہوگیا۔

1940 میں آل انڈیا مسلم لیگ نے لاہور میں قراردادِ لاہور منظور کی، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کو ایک واضح سمت فراہم کی۔ خطبۂ الٰہ آباد کو قیامِ پاکستان کے فکری پس منظر میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جاتا ہے۔

Related Articles