شہبازشریف کی محمود اچکزئی سے ملاقات، سیاسی و آئینی امور پر دوبارہ مذاکرات کی دعوت

شہبازشریف کی محمود اچکزئی سے ملاقات، سیاسی و آئینی امور پر دوبارہ مذاکرات کی دعوت

وزیرِاعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے غیر رسمی ملاقات کی اور انہیں سیاسی و آئینی امور پر دوبارہ مذاکرات کی دعوت دے دی۔

 وزیرِاعظم نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کی تقرری میں ایک سال سے جاری تعطل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر زور دیا۔

جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران ایوان میں ہونے والی اس غیر رسمی ملاقات میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور محمود خان اچکزئی ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی کے انداز میں گفتگو کرتے دکھائی دیے۔

ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کی تقرری ایک اہم آئینی ضرورت ہے، جس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی پر زور دیا کہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

وزیرِاعظم کی گفتگو کے دوران محمود خان اچکزئی خاموشی سے ان کی بات سنتے رہے اور اثبات میں سر ہلاتے نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیں: مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے شانہ بشانہ کھڑا ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیرِاعظم شہباز شریف کے ایوان سے روانہ ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز بھی محمود خان اچکزئی کی نشست پر پہنچے اور ان سے خوشگوار انداز میں گفتگو کرتے دکھائی دیے۔

دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت جمعرات کو ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی بھی توثیق کر دی گئی۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ اس صدارتی فیصلے کی آئینی تقاضوں کے مطابق توثیق کے لیے وفاقی حکومت نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے قرارداد کی منظوری حاصل کی تھی۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قرارداد پیش کی۔ اس موقع پر وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تفصیلی بحث مکمل ہو چکی ہے۔

طارق فضل چوہدری کی پیش کردہ قرارداد کے حق میں 214 ووٹ آئے جبکہ 57 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

صدرِ مملکت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے سلسلے میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدارتی اعلان جاری کیا گیا تھا، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت جاری صدارتی اعلان بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

Related Articles