پشاور دیر کالونی اسکول کے سانحہ میں زخمی اور جاں بحق ہونے والے بچوں اور بچیوں کی لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے مینجمنٹ آفس کی جانب سے تفصیل جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق اسپتال میں 53 بچوں اور بچیوں کو لایا گیا جن میں سے 33 بچے جاں بحق ہو گئے جبکہ 17 کو مرہم پٹی کے بعد ڈسچارج جبکہ 3 ابھی زیر علاج ہیں۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے بیڈ مینجمنٹ آفس کی جانب سے 15-10-2026 کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سانحہ دیر کالونی اسکول میں کل 53 متاثرین کو لایا گیا۔
ان میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تفصیل یہ ہے کہ حلیمہ بی بی دختر عبدالحلیم عمر 7 سال، سمرین بی بی دختر محمد سعید عمر 25 سال، زکریا خان ولد فرید اللہ عمر 6 سال، مدینہ دختر غلام عمر 6 سال، نامعلوم عمر 14 سال، موسیٰ ولد عبدالوحد عمر 12 سال، ابراھیم ولد رحمان گل عمر 9 سال، کاشف نجیب عمر 7 سال، اعظم ولد حنیف عمر 13 سال، نامعلوم عمر 13 سال شامل ہیں۔
اسی طرح عبدالبصیر ولد خان زاد عمر 11 سال، عظیم اللہ ولد قسمت اللہ عمر 12 سال، زبیر خان ولد قسمت اللہ عمر 14 سال، شاکر اللہ ولد عصمت اللہ عمر 10 سال، ہمدان ولد سمیع اللہ عمر 8 سال، بصیر خان ولد خان زادہ عمر 12 سال، نامعلوم بچہ عمر 9 سال، ابراھیم ولد رحمان گل عمر 7 سال شامل ہیں۔
اسی طرح ابوذر ولد زہر اللہ عمر 10 سال، نامعلوم عمر 8 سال، ساحل خان ولد شاہ سعود عمر 13 سال، محمد ولد ظاہر اللہ عمر 8 سال، نامعلوم عمر 10 سال، مبشر ولد نعیم عمر 6 سال، زکریا خان ولد کالی عمر 7 سال، حمید ولد اکرام خان عمر 10 سال، ابرار ولد اسماعیل عمر 12 سال شامل ہیں۔
اسی طرح محمد ولد فہیم عمر 12 سال، ثنان خان ولد اسد اللہ عمر 8 سال، عثمان ولد دریا خان عمر 9 سال، ابوذر ولد شاہ زادہ عمر 10 سال، محمد ولد رؤف عمر 12 سال اور عزیر ولد قسمت گل عمر 12 سال شامل ہیں۔
ان کے علاوہ زیرِ علاج زخمیوں میں مہوش دختر زمان علی عمر 28 سال، نتاشا دختر ریاض محمد عمر 12 سال اور عمران ولد محسن خان عمر 14 سال شامل ہیں۔
باقی تمام دیگر بچوں اور افراد جن میں صفا، عمیر خان، شیما بی بی، تنزیلہ بی بی، ثنا بی بی، عمر خان، نادیہ بی بی، شبیر خان، اویس، حسیب گل، ادریس، دانیال، ابراھیم، ہاجرہ بی بی، نسا بی بی، طلحہ اور اویس شامل ہیں، انہیں ابتدائی طبی امداد اور مشاہدے کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بچوں سمیت کل 110 افراد عمارت میں موجود تھے جن میں سے 53 افراد کو لیڈی ریڈنگ اسپتال لایا گیا جن میں سے 33 بچے اور بچیاں جانبر نہ ہو سکیں جبکہ 17 بچوں کو مرہم پٹی کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا اور 3 ابھی بھی زیرِ علاج ہیں، زخمی اور جاں بحق ہونے والو میں 36 بچے اور 12 بچیاں بھی شامل ہیں۔