پی ٹی آئی اور بھارتی ریپبلک ٹی وی ایک زبان بولنے لگے ہیں۔ پاکستان مخالف جھوٹے اور من گھڑت پروپگینڈا میں تحریک انتشار اور مودی سرکار کا کٹھ جوڑ کھل کر سامنے آگیا۔
پی ٹی آئی اور بھارتی ریپبلک ٹی وی ایک زبان بولنے لگے ہیں۔ پاکستان مخالف جھوٹے اور من گھڑت پروپگینڈا میں تحریک انتشاری اور مودی سرکار کا کٹھ جوڑ کھل کر سامنے آگیا۔ بھارتی ٹی وی چینل ریپبلک ٹی وی پرانی ویڈیوز اور پرتشدد احتجاج سے متعلق دعووں کے ذریعے پاکستان میں حالات خراب ہونے کا تاثر دینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔
اگر آپ یہ جاننا ہو کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر چلنے والے بیانیے کہاں سے جنم لیتے ہیں تو بھارتی ٹی وی چینل ریپبلک ٹی وی کی نشریات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، جہاں پاکستان میں احتجاج، سیکیورٹی فورسز اور فیلڈ مارشل کے خلاف مظاہروں سے متعلق مواد نشر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی صحافی ارنب گوسوامی کے چینل ریپبلک ٹی وی پر پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ریپبلک ٹی وی کو بھارتی ایجنسی ’’ را ‘‘مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔
بھارتی چینل پر پاکستان میں پرتشدد احتجاج سے متعلق ایسے الفاظ اور جملے استعمال کیے جا رہے ہیں جو تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ’’پروٹیسٹ وائلنٹ اِن پاکستان، خیبرپختونخوا‘‘ اور’’پی ٹی آئی پروٹیسٹرز شاٹ ایٹ پوائنٹ بلینک رینج بائی ملٹری فورسز‘‘ جیسے جملوں کا استعمال کرکے اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
بھارتی ریپبلک ٹی وی پر پاکستان میں احتجاج کے حوالے سے پرانی ویڈیوز بھی دوبارہ نشر اور شیئر کی جا رہی ہیں، جنہیں آزاد فیکٹ چیک پہلے ہی مسترد کرچکا ہے۔ ان ویڈیوز اور مواد کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے اور حالات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔
بھارتی ٹی وی چینل پر دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کو نظر انداز کرکے پاکستان سے متعلق مواد کو مسلسل نشر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کو تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بیانیے اور بھارتی میڈیا کی کوریج کے درمیان مماثلت پائی جارہی ہے۔
بھارتی ٹی وی چینل کے ساتھ ساتھ بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی تحریک انصاف کے حق میں مواد پھیلاتے ہیں اور پاکستان میں سیاسی بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
بھارتی میڈیا اور تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک جیسے جملوں، ویڈیوز اور دعووں کی موجودگی اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت پیدا کرتی ہے کہ یہ مواد کہاں سے آ رہا ہے اور اسے کس مقصد کے لیے پھیلایا جا رہا ہے۔