رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، دنیا بھر کے مسلمان نہایت شوق اور عقیدت کے ساتھ اس کا استقبال کرتے ہیں 2026 کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں روزے کے اوقات جغرافیائی محلِ وقوع اور دن کی لمبائی کے باعث ایک جیسے نہیں ہوں گے، دنیا بھر میں روزہ کتنے گھنٹے کا ہو گا؟ آئیے جانتے ہیں۔
رمضان المبارک 2026 موسمِ سرما کے اختتام اور بہار کے آغاز کے قریب آنے کی وجہ سے نسبتاً مختصر دنوں کے ساتھ شروع ہوگا ، شمالی نصف کرہ میں دن کی روشنی بتدریج بڑھتی ہے، اسی لیے رمضان کے آغاز کے مقابلے میں اختتامی دنوں میں روزے کا دورانیہ کچھ زیادہ ہو جائے گا۔
پاکستان اور مسلم دنیا میں روزے کے اوقات
پاکستان میں رمضان 2026 کے دوران روزہ عموماً 13 گھنٹے کے قریب شروع ہونے کا امکان ہے، جو مہینے کے اختتام تک بڑھ کر تقریباً ساڑھے 13 گھنٹے تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ اضافہ دن کے دورانیے میں بتدریج تبدیلی کے باعث ہوگا۔
مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان میں بھی روزے کے اوقات تقریباً اسی حد میں رہنے کی توقع ہے، بیشتر شہروں میں روزہ 12 گھنٹے سے کچھ زائد سے شروع ہو کر 13 گھنٹے کے قریب جا سکتا ہے۔
شمالی افریقہ کے ممالک، جن میں مصر، مراکش، الجیریا اور تیونس شامل ہیں، وہاں سورج غروب ہونے کے اوقات میں معمولی فرق کی وجہ سے روزے کے دورانیے میں بھی تھوڑا بہت فرق دیکھا جا سکتا ہے۔ مصر میں اندازاً روزہ 12 گھنٹے 40 منٹ سے شروع ہو کر مہینے کے آخر میں تقریباً 13 گھنٹے تک پہنچ سکتا ہے۔
یورپ، امریکا اور دیگر خطوں میں فرق کیوں؟
دنیا کے وہ علاقے جو خطِ استوا سے دور واقع ہیں، وہاں دن اور رات کی طوالت میں فرق زیادہ ہوتا ہے، اسی وجہ سے یورپ کے ممالک جیسے برطانیہ، جرمنی اور اسکینڈینیویا میں مسلمان نسبتاً طویل روزے رکھیں گے، اگرچہ 2026 میں یہ دورانیہ بہت زیادہ نہیں ہوگا، مگر پھر بھی مشرق وسطیٰ کے مقابلے میں نمایاں طور پر لمبا رہے گا۔
امریکا کے شہر نیویارک میں رمضان کے آغاز پر روزہ تقریباً ساڑھے 12 گھنٹے کا ہو سکتا ہے، جو مارچ کے اوائل میں بڑھ کر 13 گھنٹے یا اس سے کچھ زیادہ ہونے کا امکان ہے، خطِ استوا کے قریب واقع ممالک میں دن کی روشنی تقریباً سال بھر یکساں رہتی ہے، اس لیے وہاں روزے کے اوقات میں زیادہ تبدیلی نہیں آتی۔
فلکیاتی اندازوں کے مطابق رمضان المبارک 2026 کا آغاز ممکنہ طور پر 19 فروری کو ہو سکتا ہے تاہم اسلامی روایت کے مطابق حتمی فیصلہ 29 شعبان کو چاند دیکھنے کے بعد کیا جائے گا، اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں اسی اعلان کے مطابق رمضان کا آغاز ہوگا۔