سانحہ پمز اسپتال، نرسری میں آگ کے اندرونی مناظر، جاں بحق بچوں کی لاشوں کو نکالنے کی دلخراش ویڈیوز سامنے آگئیں

سانحہ پمز اسپتال، نرسری میں آگ کے اندرونی مناظر، جاں بحق بچوں کی لاشوں کو نکالنے کی دلخراش ویڈیوز سامنے آگئیں

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں بدھ 26 اگست 2026 کی صبح ایک المناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 15نوزائیدہ بچے جاں بحق ہونے کے بعد ان کی لاشوں کو ریسکیو کرنے کے مناظر سامنے آ گئے ہیں۔

اسپتال کے ترجمان نے تصدیق کی کہ 15 بچوں میں سے ایک کو ڈاکٹر نے بچا لیا جبکہ 14 بچے بری طرح جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔ لاشیں اتنی بری طرح جلی ہوئی ہیں کہ شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت ہوگی، جس کے بعد ہی والدین کو سپردِ خاک کے لیے حوالے کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پمزمیں ہنگامی راستوں کی بندش اور ناقص حفاظتی انتظامات سانحے کی وجہ قرار ، سی ڈی اے کی رپورٹ آگئی

سوشل میڈیا پر ریسکیو ٹیم کی جاری کردہ ویڈیوز نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریسکیو کارکن سیڑھیوں پر چڑھ کر اوپری منزل کی کھڑکی اور جالی کے ذریعے کچھ نکال رہے ہیں جبکہ نیچے خواتین اور دیگر افراد جمع ہیں۔ منظر انتہائی دلخراش ہے۔ دوسری ویڈیو دھوئیں سے بھرے اندرونی حصے میں ریسکیو آپریشن کی ہے۔

اسپتال کے باہر والدین اور اہلخانہ جمع ہیں، بہت سے آنسو بہا رہے ہیں۔ ایک والد نے بتایا کہ اس کا 3 روزہ بچہ اس آگ میں جل گیا۔ ایک ماں نے کہا کہ وہ نہیں جانتی کسے الزام دے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس سانحے پر گہرا دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا اور اسے بچوں سے متعلق ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔

انہوں نے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے ہٹا دیا۔ ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کر رہے ہیں اور رپورٹ 24 گھنٹوں میں پیش کی جانی ہے۔

سیاسی رہنماؤں نے اسے مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ یہ پورے وزارت صحت پر داغ ہے جبکہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’ہیڈز مسٹ رول‘ یعنی ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔ سابق وزرا نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

مزید پڑھیں:پمز اسپتال سانحہ، جاں بحق بچوں کے لواحقین انتظامیہ کے خلاف پھٹ پڑے

ضلع انتظامیہ نے بتایا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کولنگ آپریشن جاری ہے۔ 19 دیگر افراد بشمول خواتین اور بچوں کو بھی نکالا گیا۔

یہ سانحہ پاکستان کے سرکاری اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی اور ہنگامی انخلا کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئے گی کہ نرسری میں فائر سیفٹی کے کیا انتظامات تھے اور بروقت بچاؤ کیوں نہ ہو سکا۔ تاثرہ خاندانوں کو صبر کی دعا ہے۔ تحقیقات کا انتظار ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔

Related Articles