اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے گائناکولوجی وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی پر کیپیٹل دیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اسلام آباد کی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں اسپتال میں ہنگامی راستے بند اور آگ سے نمٹنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات کو ناکافی قرار دیا گیا ہے۔
سی ڈی اے فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق صبح چھ بج کر 55 منٹ پر اطلاع ملتے ہی چھ منٹ میں پہلی گاڑی موقع پر پہنچ گئی تھی، تاہم آپریشن کے دوران شدید رکاوٹیں پیش آئیں۔
سی ڈی اے رپورٹ کے مطابق نرسری وارڈ میں آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ یا پلگ اوور لوڈنگ کے باعث لگی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہسپتال میں آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات ناپائیدار تھے اور معیار کے مقررہ تقاضوں کے مطابق نہیں تھے۔
سی ڈی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں فائر اور لائف سیفٹی کے انتظامات ناکافی تھے اور متعدد انتظامات مقررہ معیار کے مطابق نہیں پائے گئے۔
ہنگامی اخراج کے راستے مستقل طور پر باہر سے لاک ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف رکاوٹوں کا بھی شکار تھے، جس کے باعث ایمرجنسی کی صورت میں جان بچانے کے اقدامات متاثر ہوئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہسپتال کے سیکیورٹی عملے کی جانب سے فائر عملے کے ابتدائی ریسپانس میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی، جبکہ آتشزدگی کے مقام پر ہجوم کو کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی پائے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ نرسری وارڈ سے 7 بچوں سمیت 19 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا، متاثرہ افراد میں سات بچے، 10 خواتین اور دو مرد شامل ہیں تاہم، سی ڈی اے کی رپورٹ کے مطابق، پمز کی نرسری میں لگنے والی آگ میں7 بچے جان کی بازی ہار گئے۔
آگ تیسری منزل پر لگی
اسلام آباد ضلعی انتظامیہ کے مطابق، آگ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کے ایم سی ایچ (MCH) وارڈ کی تیسری منزل پر لگی ، واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیموں کو فوری طور پر روانہ کر دیا گیا ۔
سی ڈی اے کے مطابق آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن میں 6 فائر ٹینڈرز، 6 ایمبولینسز اور ایک ریسکیو وین نے حصہ لیا، آپریشن کے لیے واٹر باؤزر سمیت 44 آپریشنل اہلکار اور 6 افسران تعینات کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق جی 10، آئی 9، جی 5 اور ایف ایچ کیو کی ٹیمیں بھی آتشزدگی کی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
آگ پر قابو پا لیا گیا اور متاثرہ بچوں کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ (ICU) منتقل کر دیا گیا، تاہم 14 نوزائیدہ بچوں کو بچایا نہ جا سکا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ لگنے کے وقت انکیوبیشن سینٹر کے اندر کوئی ڈاکٹر، وارڈ بوائز یا دیگر عملہ موجود نہیں تھا ، اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے والدین نے بھی الزام لگایا کہ واقعہ کے وقت عملہ انکیوبیشن سنٹر سے غیر حاضر تھا۔
فائر سیفٹی انتظامات بھی شدید تنقید کی زد
واقعے کے بعد ہسپتال کے مجموعی فائر سیفٹی انتظامات بھی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔
سی ڈی اے کی رپورٹ کے بعد اسپتال انتظامیہ پر فائر سیفٹی کے نقائص دور کرنے، ہنگامی راستے ہر وقت کھلے رکھنے اور انخلا و ہنگامی امداد کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
اس دلخراش واقعے کے بعد حکومت نے بڑا ایکشن لیتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے معطل کر دیا ہے، اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے واقعے کی شفاف انکوائری کے لیے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔