پنجاب حکومت نے لاہور کی تمام سرکاری اور نجی ہاؤسنگ اسکیموں میں جائیدادوں کی خرید و فروخت کو شفاف بنانے اور پراپرٹی فراڈ کے خاتمے کے لیے نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنی جائیدادوں، الاٹمنٹس اور خرید و فروخت کا مکمل ریکارڈ ہاؤسنگ سوسائٹی مینجمنٹ سسٹم پر منتقل کریں، جس کے لیے 31 اگست 2026 کی حتمی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق لاہور کی تمام ہاؤسنگ اسکیموں میں جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے اب پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا اجرا لازمی قرار دیا گیا ہے،حکام کے مطابق کسی بھی پلاٹ یا گھر کی ملکیت کا حتمی ثبوت یہی سرٹیفکیٹ ہوگا، جبکہ اس کے بغیر جائیداد کی منتقلی یا خرید و فروخت کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئے ڈیجیٹل نظام کو نادرا کے ریکارڈ، ڈیجیٹل میپنگ سسٹمز اور پنجاب کے ای رجسٹری پورٹل سے منسلک کیا گیا ہے، جس کا مقصد جعلی دستاویزات، ڈبل الاٹمنٹ، غیر قانونی ٹرانزیکشنز اور ملکیتی تنازعات کا خاتمہ ہے۔
حکومت نے نجی ہاؤسنگ اسکیموں کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی سوسائٹی کا مکمل ریکارڈ آن لائن منتقل کریں، ڈیڈ لائن پر عمل نہ کرنے والی سوسائٹیز کے خلاف ایل ڈی اے ایکٹ 1975 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق خلاف ورزی کرنے والی ہاؤسنگ اسکیموں کے دفاتر سیل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ذمہ دار انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق لاہور کی متعدد بڑی ہاؤسنگ اسکیمیں اپنا ریکارڈ پہلے ہی ہاؤسنگ سوسائٹی مینجمنٹ سسٹم پر منتقل کر چکی ہیں، جبکہ دیگر سوسائٹیز کو مقررہ وقت کے اندر عملدرآمد کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔