ریحان طارق سے متعلق عدالت نے بڑا حکم جاری کردیا

ریحان طارق سے متعلق عدالت نے بڑا حکم جاری کردیا

لاہور کی سیشن عدالت نے توہین مذہب کیس میں اینکر پرسن ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے ریحان طارق کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، دورانِ سماعت اینکر ریحان طارق کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں داؤد عدالت میں پیش ہوئے اور ضمانت کے حق میں دلائل دیے۔

وکیل صفائی میاں داؤد نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کی ایف آئی آر کے متن سے کسی واضح وقوعے یا جرم کا ثابت ہونا ظاہر نہیں ہوتا، ان کا مؤقف تھا کہ تاریخی اور مذہبی سوالات پر مبنی کسی شخص کا انٹرویو کرنا پاکستان کے کسی قانون کے تحت قابلِ دست اندازی جرم نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ریحان طارق کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آگئی

انہوں نے کہا کہ مقدمے میں شامل دفعات ضابطہ فوجداری کے تحت ضمانت کے قابل ہیں اور قانون کے مطابق ایسے مقدمات میں ملزم ضمانت کا حق رکھتا ہے۔ وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ ریحان طارق کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اینکر پرسن ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔

واضح رہے کہ ریحان طارق کے خلاف متنازع انٹرویو کے معاملے پر این سی سی آئی اے کی جانب سے مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔

editor

Related Articles