معروف صحافی اور تجزیہ کار عرفان خان نے اپنے حالیہ وی لاگ میں خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی، کابینہ کی غیر معمولی توسیع اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کے اندرونی اختلافات سے متعلق اہم نکات سامنے رکھ دیے۔
عرفان خان کے مطابق ایک طرف خیبرپختونخوا حکومت مالی مشکلات اور کفایت شعاری کی پالیسی کا مؤقف اختیار کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب حکومتی سطح پر نئی تقرریوں اور سیاسی عہدوں کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نےکہا کہ 21 جولائی کو جاری ہونے والے ایک حکومتی اعلامیے کے تحت 23 نئے پارلیمانی سیکرٹریز مقرر کیے گئے، جس کے بعد صوبائی کابینہ کا حجم 53 ارکان تک پہنچ گیا ہے، ان میں 16 وزراء، 6 مشیر، 8 معاونینِ خصوصی اور 23 پارلیمانی سیکرٹریز شامل ہیں۔
صحافی نے سوال اٹھایا کہ کیا کابینہ کا یہ غیر معمولی پھیلاؤ عمران خان کے کفایت شعاری اور محدود حکومتی ڈھانچے کے وژن کے مطابق ہے یا پھر یہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے قریبی حلقے کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے،عرفان خان نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے حالیہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنی ہی جماعت کے اندر سے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی کے چار ارکان اسمبلی عثمان بیٹنی، شاہ تراب خان، پختون یار اور سابق اسپیکر مشتاق احمد غنی نے اسمبلی فلور پر حکومتی کارکردگی اور اداروں میں مبینہ کرپشن کے معاملات اٹھائے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ارکان اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے جاری تحریک پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ کارکنوں کو مسلسل انتظار میں رکھا جا رہا ہے، جبکہ نہ واضح حکمت عملی سامنے آ رہی ہے اور نہ ہی پارٹی سطح پر مؤثر مشاورت کا عمل دکھائی دے رہا ہے۔
عرفان خان کے مطابق بعض ارکان نے جب سرکاری اداروں میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تو حکومتی وزراء اس کے دفاع میں سامنے آ گئے، جس سے پارٹی کے اندر موجود اختلافات مزید نمایاں ہوئے۔
انہوں نے پارٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے اندر گروپ بندی بڑھ رہی ہے اور بعض رہنما سیاسی عدم تحفظ کا شکار ہیں،عرفان خان کا کہنا تھا کہ نئی تقرریوں اور عہدوں کی تقسیم کا مقصد ناراض ارکان اور کارکنوں کو مطمئن رکھنا اور ممکنہ اختلافی آوازوں کو کمزور کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 23 پارلیمانی سیکرٹریز کی تعیناتی پر سوالات اس لیے بھی اٹھ رہے ہیں کہ ایک طرف حکومت اخراجات میں کمی کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف حکومتی ڈھانچے میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔