بھارتی وزیر دفاع کا کشمیر سے متعلق بیان اشتعال انگیز، اقوام متحدہ فوری کارروائی کرے، پاکستان کا مطالبہ

بھارتی وزیر دفاع کا کشمیر سے متعلق بیان اشتعال انگیز، اقوام متحدہ فوری کارروائی کرے، پاکستان کا مطالبہ

پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر کے تنازع پر دیے گئے حالیہ بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ’ انتہائی اشتعال انگیز‘ اور علاقائی امن کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا ہے۔

اسلام آباد سے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے سرکاری بیان میں پاکستانی حکومت نے اپنا مؤقف دہرایا کہ بھارت کشمیر تنازع کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو تاحال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان جان بوجھ کر حقائق کو غلط انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ بھارتی حکومت کی ایک ’سوچی سمجھی پالیسی‘ کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد بین الاقوامی امن کو نقصان پہنچانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان بطور ’سفارتی پل‘، ترجمان دفتر خارجہ اہم ترین حقائق سامنے لے آئے

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ’اس طرح کے اشارے دراصل بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر پر جاری قبضے، خطے میں دہشتگردی کی سرپرستی اور اپنے ملک کے اندرونی عدم استحکام سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہیں۔‘

بھارت کو ’مہم جوئی‘ سے باز رہنے کا انتباہ

پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا کہ وہ اپنے ’جارحیت پر مبنی بے جا بیان بازی‘ سے باز رہے اور پاکستانی عوام یا اس کی مسلح افواج کے عزم کو کم تر نہ سمجھے۔

حکومتی بیان میں گزشتہ برس کے آپریشن ’بنیانُ مرصوص‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ آپریشن پاکستان کی صلاحیت اور کسی بھی بھارتی ‘مہم جوئی’ کو ناکام بنانے کے عزم کا واضح ثبوت تھا۔

اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ

عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ بھارت کے ’غیرذمہ دارانہ رویے‘ کا فوری نوٹس لے۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں پر عمل درآمد نہ کرنے پر جوابدہ ٹھہرایا جائے جو کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت کی ضمانت دیتی ہیں۔

پیر کی شام تک بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے پاکستان کے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔

تنازع کہاں سے شروع ہوا؟

دستیاب اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر دفاع نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات صرف ’پاکستان کے زیرانتظام کشمیر‘ کے موضوع پر ہی ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:ترجمان دفتر خارجہ کا عراق جانیوالے پاکستانی شہریوں کیلئے اہم بیان آگیا

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی ’مہم جوئی‘ کا جواب ’تصور سے بڑھ کر‘ دیا جائے گا۔ اسی بیان کے بعد پاکستانی وزیر دفاع نے بھی رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی بیان بازی سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق یا جموں کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔

دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی 2019 میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے غیرمستحکم رہی ہے اور دونوں ممالک وقتاً فوقتاً اس خطے پر سفارتی سطح پر ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

یہ بیان بازی کیوں اہم؟

مبصرین کے مطابق پاکستان کا یہ تازہ ردعمل کوئی نئی بات نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان جموں کشمیر پر جاری کئی دہائیوں پرانی سفارتی کشمکش کا تسلسل ہے۔

تاہم اس بیان میں چند پہلو قابلِ غور ہیں۔ سب سے پہلے، پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا حوالہ بار بار دیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی ’گیدڑ بھبکی‘ پر سکھ برادری کا شدید ردِعمل، پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان

دوسری جانب آپریشن ‘بنیان مرصوص’ کا ذکر یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اپنی عسکری صلاحیت کو بطور ڈیٹرنس (بازدارندہ قوت) پیش کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی صورت میں اپنا مؤقف واضح رکھے۔

اس کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر دفاع کا یہ بیان کہ مذاکرات صرف پاکستان کے زیرانتظام کشمیر پر ہی ہو سکتے ہیں، بذاتِ خود ایک نمایاں پالیسی بیان تصور کیا جا رہا ہے، جسے پاکستان نے اپنے مؤقف کے خلاف براہ راست چیلنج سمجھا ہے۔

مجموعی طور پر دونوں ممالک کے سرکاری بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی سطح پر کشیدگی برقرار ہے، تاہم تاحال یہ کشیدگی زبانی بیانات اور سفارتی احتجاج تک محدود دکھائی دیتی ہے۔

آنے والے دنوں میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے ردعمل سے یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ معاملہ مزید سنگین رخ اختیار کرتا ہے یا معمول کی سفارتی بیان بازی تک محدود رہتا ہے۔

Related Articles