وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک سے آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی، جس میں وائٹ آئل پائپ لائن کے کوٹے، فریٹ فارمولے اور کرایوں میں اضافے سمیت دیگر مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران آئل ٹینکرز مالکان کے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی جو ایک ہفتے میں اپنی سفارشات وفاقی وزیرِ پیٹرولیم کو پیش کرے گی،اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں حکومت اور آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان تمام معاملات باہمی مشاورت سے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے اسپیشل سیکرٹری پیٹرولیم کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی، جس میں ڈی جی آئل، اوگرا اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل ہوں گے۔
علی پرویز ملک نے اوگرا کو ہدایت کی کہ آئل ٹینکرز مالکان کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فریٹ کنٹریکٹس سے متعلق تحریری پالیسی جمع کرانے کا کہا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے اوگرا کو آئل ٹینکرز کی مؤثر ٹریکنگ، نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور ڈیلرز کی گاڑیوں کو پرائمری ٹرانسپورٹیشن سے الگ رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
ملاقات کے دوران علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو بلا تعطل ایندھن کی فراہمی یقینی بنانا ہے، اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے مسائل مشاورت سے حل کیے جائیں گے۔
صدر آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن عابداللہ آفریدی نے کہا کہ تین سال سے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ پیٹرولیم نے مسائل کے حل کے لیے سات دن کا وقت لیا ہے۔