پاکستان نے اسلام آباد میں کھیلے گئے سینٹرل ایشین والی بال چیمپیئن شپ کے فائنل میں بنگلہ دیش کو سیدھے سیٹوں میں شکست دے کر تیسری بار چیمپیئن شپ کا اعزاز اپنے نام کر لیا، ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم مکمل طور پر ناقابلِ شکست رہی۔
اسلام آباد کے لیاقت جمنازیم، پاکستان اسپورٹس کمپلیکس میں کھیلے گئے سینٹرل ایشین والی بال ایسوسی ایشن (سی اے وی اے) مینز والی بال چیمپیئن شپ کے فائنل میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو0-3 سے شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کر لی۔
میزبان ٹیم نے پہلا سیٹ 25-20 سے جیتا، دوسرے سیٹ میں بہترین ٹیم ورک اور تکنیکی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسانی سے 25-16 سے کامیابی حاصل کی، جبکہ بنگلہ دیش نے تیسرے سیٹ میں واپسی کی کوشش کی مگر پاکستان نے کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے یہ سیٹ بھی 25-20 سے جیت کر خطاب اپنے نام کر لیا۔
میزبان ٹیم نے پوری چیمپیئن شپ کے دوران تمام 7 میچز سیدھے سیٹوں میں جیتے، جن میں ناک آؤٹ مراحل کے میچز بھی شامل ہیں۔
ٹورنامنٹ میں شریک ٹیمیں
اس ٹورنامنٹ میں کل 6 ٹیموں نے شرکت کی، جن میں پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، ازبکستان، قازقستان اور نیپال شامل تھے۔ ٹورنامنٹ 22 جولائی سے 29 جولائی تک اسلام آباد کے لیاقت جمنازیم میں کھیلا گیا، جہاں پاکستان پورے مقابلے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیم رہی۔
تیسری پوزیشن کا میچ
تیسری پوزیشن کے لیے کھیلے گئے میچ میں سری لنکا نے ازبکستان کو 3-0 سے شکست دے کر تیسرا مقام حاصل کیا۔ اسی روز قازقستان نے نیپال کو 0-3 سے شکست دے کر پانچویں پوزیشن حاصل کی، جس کے سیٹ اسکور 25-16، 26-24 اور 25-20 رہے۔
پاکستان کا والی بال میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ
یہ پاکستان کی سینٹرل ایشین والی بال چیمپیئن شپ میں تیسری کامیابی ہے، اس سے قبل مملکت یہ اعزاز 2022 اور میں بھی اپنے نام کر چکی ہے۔
2022 میں پاکستان نے لاہور میں پہلی بار یہ ٹورنامنٹ جیتا تھا، جس کے بعد سے پاکستانی ٹیم اس خطے کی سب سے مضبوط والی بال ٹیموں میں شمار ہونے لگی۔ حالیہ کامیابی سے پاکستان میں والی بال کے کھیل کی مقبولیت میں مزید اضافہ متوقع ہے، جہاں یہ کھیل حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر شاندار نتائج کے باعث تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
پاکستان والی بال فیڈریشن کے حکام نے ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کھلاڑیوں، کوچز اور آفیشلز کو مبارکباد پیش کی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی قومی ٹیم کو چیمپئن شپ جیتنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ فائنل میں بنگلہ دیش کو شکست دے کر ٹائٹل جیتنا پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔
مسلسل کامیابیوں کا تسلسل اور مستقبل کے امکانات
پاکستان کی یہ کامیابی محض ایک ٹرافی جیتنے سے کہیں بڑھ کر ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں والی بال جیسے کھیل کو منظم انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے۔
پورے ٹورنامنٹ میں کسی بھی حریف ٹیم کے خلاف ایک بھی سیٹ نہ گنوانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ قومی ٹیم کی تیاری، تکنیکی مہارت اور ذہنی ہم آہنگی انتہائی اعلیٰ معیار کی رہی۔
میزبان ملک ہونے کے ناطے پاکستان پر دباؤ زیادہ تھا، تاہم ٹیم نے اس دباؤ کو کامیابی میں تبدیل کر کے دکھایا۔ بنگلہ دیش کے خلاف فائنل میں دوسرے سیٹ کی یکطرفہ کامیابی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جو ٹیم کی برتری کو نمایاں کرتی ہے۔
مسلسل 3 بار چیمپیئن شپ جیتنا اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ پاکستان کا والی بال سسٹم اب صرف انفرادی کھلاڑیوں پر نہیں بلکہ ایک مستحکم ادارہ جاتی ڈھانچے پر استوار ہو چکا ہے، جس سے مستقبل میں مزید بین الاقوامی کامیابیوں کی امید کی جا سکتی ہے۔
تاہم یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا یہ کامیابیاں صرف علاقائی سطح تک محدود رہیں گی یا پاکستان عالمی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کو منوانے میں کامیاب ہو گا۔ اس کے لیے مسلسل بین الاقوامی نمائش اور بہتر مالی و انتظامی معاونت درکار ہو گی۔