اونٹ کے آنسو سے سانپ کا زہرکا زہر ختم ہو سکتا ہے؟،حقیقت سامنے آگئی

اونٹ کے آنسو سے سانپ کا زہرکا زہر ختم ہو سکتا ہے؟،حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ اونٹ کے آنسو مختلف اقسام کے سانپوں کے زہر کو بے اثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم دستیاب سائنسی شواہد اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔

2021 میں سائینٹفک رپورٹس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق، جسے متحدہ عرب امارات اور فرانس کے سائنس دانوں نے انجام دیا، میں اونٹ سے حاصل ہونے والی منفرد اینٹی باڈیز کی زہریلے مادوں کو غیر مؤثر بنانے کی صلاحیت کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق نے اینٹی وینم کی تیاری کے شعبے میں نئی امید ضرور پیدا کی، لیکن اس میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ اونٹ کے آنسو سانپ کے زہر کا مؤثر علاج ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :انٹارکٹیکا میں جانے کے لیے اجازت کیوں ضروری؟برفانی صحرا میں دفن بڑے راز

ماہرین کے مطابق اونٹ، لاما اور الپاکا جیسے جانور ایسے منفرد نینو باڈیز بناتے ہیں، جو عام انسانی اینٹی باڈیز سے چھوٹے، زیادہ مضبوط اور مخصوص اہداف کو شناخت کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔

تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ نینو باڈیز سانپ، بچھو اور دیگر زہریلے جانوروں کے بعض زہریلے اجزا سے جڑ کر انہیں غیر مؤثر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی بنیاد پر سائنس دان مستقبل میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم لاگت اینٹی وینم تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :12 بیویاں، 102 بچے، آخرکار یوگنڈا کے شخص نے بڑا فیصلہ کر لیا

تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ موجودہ تحقیق میں اونٹ کے آنسوؤں کو اینٹی وینم کے عملی یا مؤثر ذریعہ کے طور پر ثابت نہیں کیا گیا۔ اب تک ہونے والی زیادہ تر تحقیق اونٹ کے خون، اس کے مدافعتی خلیات یا لیبارٹری میں تیار کیے گئے نینو باڈیز پر مرکوز رہی ہے، نہ کہ آنسوؤں پر۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس لیے یہ دعویٰ کہ اونٹ کے آنسو براہ راست سانپ کے زہر کا علاج ہیں، سائنسی شواہد کی بنیاد پر درست نہیں۔ البتہ اونٹ سے حاصل ہونے والی منفرد نینو باڈیز مستقبل میں جدید اینٹی وینم کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

editor

Related Articles