سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں چھ روزہ ورکنگ ویک بحال کر دیا گیا ہے، محکمہ تعلیم نے اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے تحت یکم اگست سے اسکول اور کالج ہفتے میں چھ دن کھلے رہیں گے۔
نوٹیفکیشن میں کیا کہا گیا؟
محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ہفتے کے چھ دن اسکولوں اور کالجوں میں تدریسی عمل جاری رکھنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پیر سے ہفتے تک تمام کلاسز باقاعدگی سے منعقد ہوں گی، جبکہ اتوار کو ہفتہ وار تعطیل کا دن رکھا گیا ہے۔
اس فیصلے پر عمل درآمد کا آغاز یکم اگست سے ہوگا، جس کے بعد صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے ہفتے میں چھ دن تدریسی سرگرمیاں جاری رکھنے کے پابند ہوں گے۔
کن اداروں پر فیصلے کا اطلاق ہوگا؟
یہ فیصلہ سرکاری اور نجی دونوں طرح کے تعلیمی اداروں پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔ اسکول اور کالج انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے شیڈول کے مطابق فوری طور پر تدریسی سرگرمیوں کو ترتیب دیں تاکہ یکم اگست سے کسی رکاوٹ کے بغیر نفاذ ممکن ہو سکے۔
5 اور 6 روزہ ہفتہ وار شیڈول کی بحث
پاکستان کے تعلیمی اداروں میں کام کے دنوں کی تعداد ایک عرصے سے زیرِ بحث رہی ہے۔
بعض اوقات توانائی کی بچت، موسمی حالات یا انتظامی وجوہات کی بنا پر تعلیمی ہفتہ 5 دن پر محدود کر دیا جاتا ہے، تاہم نصاب کی تکمیل میں تاخیر اور تدریسی اوقات کی کمی جیسے خدشات کے پیش نظر اکثر یہ فیصلہ واپس لے کر 6 روزہ ہفتہ بحال کر دیا جاتا ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ 6 روزہ تدریسی ہفتہ طلبہ کو نصاب مکمل کرنے کے لیے زیادہ وقت فراہم کرتا ہے، خصوصاً امتحانات سے قبل کے مہینوں میں یہ فیصلہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
فیصلے کے اثرات اور چیلنجز
6 روزہ ورکنگ ویک کی بحالی بظاہر ایک انتظامی فیصلہ نظر آتی ہے، مگر اس کے اثرات وسیع پیمانے پر محسوس کیے جائیں گے۔
ایک طرف یہ فیصلہ طلبہ کو نصاب مکمل کرنے اور اساتذہ کو تدریسی منصوبہ بندی کے لیے زیادہ وقت فراہم کرے گا، جو خاص طور پر ان اداروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جہاں 5 روزہ ہفتے کے باعث نصاب کی تکمیل میں تاخیر کا سامنا تھا۔
دوسری جانب اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے کام کے اوقات میں اضافہ ایک اہم پہلو ہے، جس پر اساتذہ تنظیموں کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے۔
نجی تعلیمی اداروں کے لیے بھی یہ فیصلہ لاگو کیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت یکساں تعلیمی پالیسی نافذ کرنے کی خواہاں ہے۔
تاہم عملدرآمد کے دوران نگرانی اور رپورٹنگ کا مؤثر نظام موجود ہونا ضروری ہوگا تاکہ تمام ادارے یکساں طور پر اس فیصلے پر عمل کر سکیں۔
والدین کی جانب سے بھی اس تبدیلی پر ملا جلا ردعمل متوقع ہے، کچھ اسے بچوں کی تعلیمی کارکردگی کے لیے مثبت سمجھیں گے جبکہ کچھ ہفتہ وار تعطیلات میں کمی پر تحفظات کا اظہار کر سکتے ہیں۔