پاکستان میں کرکٹ کے بے شمار خوبصورت میدان موجود ہیں، مگر گلگت بلتستان کی وادی نگر میں واقع پِسان کرکٹ گراؤنڈ اپنی قدرتی خوبصورتی کی بدولت دنیا بھر کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ برف سے ڈھکی راکاپوشی اور دیران کی بلند و بالا چوٹیوں کے دامن میں واقع یہ گراؤنڈ کھیل کے شوقین افراد کے لیے کسی جنت سے کم نہیں۔
وادی نگر کے سرسبز ماحول میں قائم یہ منفرد کرکٹ گراؤنڈ نہ صرف مقامی کھلاڑیوں کے لیے کھیل کا مرکز ہے بلکہ ملکی اور غیر ملکی سیاح بھی اس کے دلکش مناظر کو دیکھنے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس گراؤنڈ کی تصاویر اور ویڈیوز اکثر وائرل ہوتی رہتی ہیں، جہاں قدرتی حسن اور کرکٹ کا حسین امتزاج لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
پِسان کرکٹ گراؤنڈ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے عقب میں دکھائی دینے والی تقریباً 7 ہزار 788 میٹر بلند راکاپوشی اور 7 ہزار 266 میٹر بلند دیران کی برف پوش چوٹیاں ہیں۔ یہ قدرتی منظر کرکٹ کھیلنے والوں اور دیکھنے والوں دونوں کے لیے ایک منفرد تجربہ بن جاتا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں یہاں مختلف مقامی ٹورنامنٹس منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں شرکت کے لیے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں سے ٹیمیں پہنچتی ہیں۔ میچز کے دوران شائقین کرکٹ کے ساتھ ساتھ قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے والے سیاح بھی بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔
سیاحت کے فروغ کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس گراؤنڈ کے اطراف بنیادی سہولیات، بہتر رسائی اور کھیلوں سے متعلق انفراسٹرکچر مزید بہتر بنایا جائے تو پِسان کرکٹ گراؤنڈ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ایک منفرد شناخت بن سکتا ہے۔
گلگت بلتستان پہلے ہی اپنی بلند چوٹیوں، جھیلوں اور حسین وادیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، جبکہ پِسان کرکٹ گراؤنڈ نے اس خطے کو کھیلوں کی سیاحت کے نقشے پر بھی نمایاں کر دیا ہے۔
قدرتی حسن، بلند برفانی پہاڑ اور کرکٹ کا شوق، یہ تینوں عناصر مل کر پِسان کرکٹ گراؤنڈ کو پاکستان کے خوبصورت ترین کرکٹ میدانوں میں شمار کرتے ہیں، جہاں ہر میچ کسی فلمی منظر سے کم محسوس نہیں ہوتا۔