آسٹریلیا میں دریافت ہونے والے تقریباً 28 کروڑ سال پرانے ایک نایاب سمندری جاندار کے فوسلز نے اپنی منفرد شکل کی وجہ سے سوشل میڈیا اور سائنسی حلقوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ پہلی نظر میں یہ فوسلز کسی خلائی مخلوق سے تعلق رکھتے محسوس ہوتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔
یہ فوسلز جمباکرائنس بوسٹوکینامی ایک معدوم سمندری جاندار کے ہیں، جو کروڑوں سال پہلے زمین کے قدیم سمندروں میں پایا جاتا تھا۔ اگرچہ اس کی ساخت کسی دوسری دنیا کی مخلوق جیسی دکھائی دیتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک کرائنوئیڈ تھا، جس کا تعلق موجودہ دور کی اسٹار فش اور سی ارچنسے ہے۔
ماہرین کے مطابق کرائنوئیڈز کو عام طور پر ’’سی للیز‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ جاندار سمندر کی تہہ سے ایک لمبے ڈنٹھل کے ذریعے جڑے رہتے تھے، جبکہ ان کے اوپری حصے پر موجود شاخ نما بازو پانی میں تیرنے والے ننھے جانداروں اور غذائی ذرات کو پکڑ کر خوراک حاصل کرتے تھے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جمباکرائنس بوسٹوکی تقریباً پرمین دور میں زندہ تھا، جو ڈائنوسارز کے ظہور سے بھی کروڑوں سال پہلے کا زمانہ تھا۔ اس دور میں زمین پرننھے جاندارکی کئی منفرد اقسام موجود تھیں، جن میں سے بیشتر بعد میں معدوم ہو گئیں۔
ماہرین کے مطابق ان فوسلز کی غیر معمولی حالت میں محفوظ رہنے کی وجہ سے سائنسدانوں کو قدیم سمندری ماحول، حیاتیاتی ارتقا اور اس دور کے ماحولیاتی نظام کو سمجھنے میں اہم معلومات حاصل ہو رہی ہیں۔
حالیہ دنوں میں ان فوسلز کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہوئی ہیں، جہاں متعدد صارفین نے انہیں کسی سائنس فکشن فلم یا خلائی مخلوق سے تشبیہ دی۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ کسی دوسری دنیا کی مخلوق نہیں بلکہ زمین پر کروڑوں سال پہلے رہنے والے ایک حقیقی سمندری جانور کے باقیات ہیں، جو آج بھی سمندری حیات کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔