پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بار بار کیوں بدلتی ہیں؟ وزیر پیٹرولیم نے وجہ بتا دی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بار بار کیوں بدلتی ہیں؟ وزیر پیٹرولیم نے وجہ بتا دی

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپنی مرضی سے قیمتیں تبدیل نہیں کرتی بلکہ عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے اتار چڑھاؤ کے مطابق مقامی سطح پر فیصلوں پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات، گردشی قرض پر قابو پانے، تیل و گیس کی تلاش اور ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان انرجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، گیس سیکٹر، گردشی قرض، تیل و گیس کی تلاش اور ریفائنریز سے متعلق حکومتی اقدامات پر اظہار خیال کیا۔

قیمتیں میں نہیں، عالمی مارکیٹ بدلتی ہے

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ان پر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ وہ روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تبدیل کرتے ہیں، تاہم ان کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا مجھ پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں روز قیمتیں بدلتا ہوں، میں قیمتیں نہیں بدلتا بلکہ عالمی مارکیٹ میں فیول کی قیمتیں کسی ایک مخصوص دن تبدیل نہیں ہوتیں بلکہ روزانہ کی بنیاد پر ان میں اتار چڑھاؤ آتا ہے، اس لیے پاکستان میں بھی عالمی مارکیٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں سے متعلق فیصلوں پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔

یہ پڑھیں: ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی، پیٹرول مہنگا کردیا گیا

ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی کو حکومت کی جانب سے اپنی مرضی سے کیا جانے والا اقدام قرار دینا درست نہیں، کیونکہ مقامی قیمتوں پر عالمی توانائی مارکیٹ کے رجحانات کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔

ڈیزل کی قیمت میں ریلیف

انہوں نے ڈیزل کی قیمت میں حالیہ کمی کا بھی ذکرکرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ڈیزل کی قیمتوں کی مد میں صارفین کو ریلیف دیا گیا اور حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں ریفائنری نے بات مان لی، جس کے بعد ڈیزل کی قیمت کم ہوئی۔

انکا  کہنا تھا کہ گزشتہ روز ڈیزل کی قیمتوں کی مد میں ریلیف دیا ہے، ہماری کوششوں سے ریفائنری نے بات مان لی اور ڈیزل کی قیمت کم ہوگئی۔ انہوں نے اس پیش رفت کو حکومت اور ریفائنری سیکٹر کے درمیان ہونے والے رابطوں اور کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔

آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق اقدامات

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے اپنے خطاب میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پاکستان کے معاہدے کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی روشنی میں اقدامات کر رہی ہے اور توانائی کے شعبے میں بھی اسی پالیسی فریم ورک کے تحت فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

علی پرویز ملک نے اس موقع پر کسی نئے مالیاتی اقدام یا اضافی اعداد و شمار کا ذکر نہیں کیا، تاہم واضح کیا کہ توانائی کے شعبے سے متعلق حکومتی پالیسیوں میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاملات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

20 سال بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش

علی پرویز ملک نے پاکستان میں مقامی توانائی کے وسائل کی تلاش کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ 20 سال بعد سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش پر کام شروع کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ حکومت ملک میں توانائی کے مقامی وسائل کی تلاش اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے اقدامات آگے بڑھا رہی ہے۔

تیل و گیس کی مقامی تلاش کو توانائی کے شعبے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے حکومت اس سلسلے میں مختلف منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

گیس کی قیمت بڑھائے بغیر گردشی قرض نہیں بڑھا

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے گیس سیکٹر میں گردشی قرض کے معاملے پر بھی گفتگو کرتےہوئے کہا کہ پاور سیکٹر کی جانب سے گیس کی طلب میں کمی کے باوجود حکومت نے گیس کی قیمت میں اضافہ کیے بغیر گردشی قرض کو مزید بڑھنے نہیں دیا۔

یہ پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی پیٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں کمی کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت

پاور سیکٹر کی ڈیمانڈ میں کمی کے باوجود کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں گیس سیکٹر میں گردشی قرض میں اضافہ نہیں ہوا۔

وفاقی وزیر نے اسے توانائی کے شعبے میں حکومتی انتظامی اور پالیسی اقدامات کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا۔

ریفائنری اپ گریڈیشن کے لیے جلد معاہدہ

علی پرویز ملک نے مقامی ریفائنریز کی اپ گریڈیشن سے متعلق بھی پیش رفت کا عندیہ دیا۔انہوں نے کہا کہ ریفائنری اپ گریڈیشن کے لیے جلد معاہدہ ہوگا۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت ریفائنری سیکٹر کے ساتھ معاملات آگے بڑھا رہی ہے اور اس سلسلے میں آئندہ بھی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

خیال رہے کہ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے اہم حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ حکومت اس شعبے میں بہتری اور مقامی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے اقدامات پر کام کر رہی ہے۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا معاملہ حالیہ عرصے میں عالمی تیل مارکیٹ میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث توجہ کا مرکز بناہوا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی کے باعث حکومت کو عوامی سطح پر تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

Related Articles