بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خالد یوسف چوہدری کا بڑا بیان سامنے آ گیا ہے۔ خالد یوسف چوہدری عمران خان کے وکالت نامے پر دستخط کرانے اور توہین عدالت کی درخواست کے معاملے میں اڈیالہ جیل پہنچے تاہم وہ عمران خان سے وکالت نامے پر دستخط کرانے میں ناکام رہے اور کئی گھنٹے انتظار کے بعد اڈیالہ جیل سے روانہ ہوگئے۔
خالد یوسف چوہدری نے کہا کہ اگر حکومت نے عمران خان کو اسپتال منتقل نہ کیا تو بھی سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے وکالت نامے پر دستخط کرانے کے لیے اڈیالہ جیل آئے تھے، تاہم کئی گھنٹے انتظار کے باوجود دستخط نہیں ہوسکے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکالت نامے پر دستخط نہ ہوسکے تو وہ ہر صورت توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل حکام قانوناً وکالت ناموں پر دستخط کرانے کے پابند ہیں۔
خالد یوسف چوہدری کے مطابق وکیل کو قانونی تقاضوں کے تحت اپنے مؤکل سے وکالت نامے پر دستخط کرانے کا حق حاصل ہے اور جیل انتظامیہ اس قانونی عمل کو یقینی بنانے کی پابند ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جیل حکام کو قانون کے مطابق وکالت نامے پر دستخط کرانے کے عمل کو مکمل کرانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کئی گھنٹے تک اڈیالہ جیل میں انتظار کرتے رہے، تاہم بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکالت نامے پر دستخط نہیں کرائے جاسکے۔ خالد یوسف چوہدری کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں اگر وکالت نامے پر دستخط نہ ہوئے تو وہ اس معاملے پر ہر صورت توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے واضح کیا کہ اڈیالہ جیل حکام قانوناً وکالت ناموں پر دستخط کرانے کے پابند ہیں، اس لیے اس قانونی ذمہ داری پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق وکالت نامے پر دستخط نہ کرانے کی صورت میں معاملے کو قانونی طور پر آگے بڑھایا جائے گا۔
خالد یوسف چوہدری کئی گھنٹے انتظار کے بعد اڈیالہ جیل سے روانہ ہوگئے، تاہم روانگی سے قبل انہوں نے واضح کیا کہ اگر عمران خان کو اسپتال منتقل نہ کیا گیا تو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے وکالت نامے پر دستخط نہ ہونے کی صورت میں بھی قانونی کارروائی کرتے ہوئے توہین عدالت کی درخواست ہر صورت دائر کی جائے گی۔