وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کو فوری طور پر کراچی پہنچنے اور آئل ریفائنریز سے مذاکرات کرکے ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے اقدامات کرنے کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم شہبازشریف سے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ملاقات کی ہے جس میں وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز بھی شریک ہوئے۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے وزیرِ پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ فی الفور کراچی پہنچیں اور مقامی ریفائنریز سے مذاکرات کرکے مقامی طور پر تیار ہونے والے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات یقینی بنائیں۔
اسلام آباد: 19 اگست 2026.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے وزیرِ پیٹرولیم کو فوری کراچی پہنچنے اور ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے عوامی ریلیف کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کی.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کی ملاقات ہوئی جس میں وزیرِ اطلاعات و نشریات… pic.twitter.com/nJOKiWs857
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ڈیزل کی بڑی مقدار مقامی ریفائنریز میں تیار ہوتی ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں کمی کے لیے ریفائنریز کے ساتھ مذاکرات جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عوام کو جس قدر ممکن ہو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اور دباؤ
حالیہ دنوں میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد ملک بھر میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے ، 19 اگست کے لیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3.34 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5.27 روپے کا اضافہ کیا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 334.54 روپے اور ڈیزل کی قیمت 395.69 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
اس سے ایک دن پہلے بھی بالترتیب 5.77 روپے اور 6.47 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پیٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن میں بھی 1.34 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔
ٹرانسپورٹر کی ہڑتال اور عوام کا ردعمل
ایندھن کی آسمان چھوتی قیمتوں اور دیگر مطالبات کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز نے ملک گیر ہڑتال شروع کر دی تھی، تاہم حکومت کی جانب سے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کے بعد آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے اپنی نو روزہ ہڑتال 40 دنوں کے لیے مؤخر کر دی تھی۔
دوسری جانب جماعتِ اسلامی سمیت مختلف حلقوں کی طرف سے بھی پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے، جس سے حکومت پر سیاسی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
عالمی منڈی کے اثرات
پاکستان میں 17 جولائی سے یومیہ بنیادوں پر ایندھن کی قیمتوں کا نیا طریقہ کار نافذ کیا گیا ہے، جس کا دارومدار عالمی منڈی کے 7 روزہ اوسط ریٹس پر ہوتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔ موجودہ ٹیکس ڈھانچے کے تحت حکومت پیٹرول پر اسی روپے اور ڈیزل پر 78.30 روپے فی لیٹر لیوی وصول کر رہی ہے، اس کے علاوہ دونوں ایندھن پر 5 روپے فی لیٹر کلائمٹ سپورٹ لیوی بھی عائد ہے۔
وزارتِ پیٹرولیم نے اس سے قبل لیوی کم کر کے پچاس روپے کرنے کی تجویز دی تھی جسے تاحال عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔
عارضی ریلیف یا پالیسی اصلاحات کی ضرورت؟
وزیراعظم کی جانب سے ریفائنریز سے قیمتیں کم کرانے کی یہ کوشش بلاشبہ ایک مثبت اور بروقت قدم ہے جو عوامی مشکلات کا احساس دلاتا ہے۔
تاہم اس طرح کے ہنگامی اقدامات طویل مدتی معاشی استحکام کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ جب تک حکومت ٹیکسوں کے بوجھ، خاص طور پر بھاری پیٹرولیم لیوی اور عالمی منڈی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کوئی پائیدار حکمت عملی مرتب نہیں کرتی، اس طرح کے بحران بار بار سر اٹھاتے رہیں گے۔
اگر مقامی ریفائنریز سے مذاکرات کامیاب ہو بھی جاتے ہیں، تو بھی حکومت کو چاہیے کہ وہ ریٹیل نرخوں میں کمی کے لیے اپنے ٹیکس ریونیو کے اس بڑے ذریعے پر نظرثانی کرے تاکہ مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کو حقیقی اور مستقل سکون مل سکے۔