ملک میں جعلی کرنسی کی بڑھتی ہوئی گردش پر سینیٹ کی خزانہ کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسٹیٹ بینک کا گورنر بھی اصلی اور جعلی نوٹ میں فرق نہ کرسکے تو عام شہری سے یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔
سلیم مانڈوی والا نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً دو سال قبل سینیٹ کی کمیٹی نے جعلی کرنسی کا معاملہ اٹھایا تھا اور اس وقت اسٹیٹ بینک کے گورنر کو 5 ہزار روپے کے تین نوٹ دیے گئے تھے جن میں ایک نوٹ جعلی تھا۔ ان کے مطابق گورنر بھی یہ شناخت نہیں کرسکے کہ تینوں میں سے جعلی نوٹ کون سا ہے۔
اے ٹی ایم سے جعلی نوٹ ملنے پر شہری کیا کرے؟
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ شہریوں کو بینکوں اور اے ٹی ایمز کے ذریعے بھی مبینہ طور پر جعلی نوٹ ملنے کی شکایات ہیں۔ اگر کوئی شخص اے ٹی ایم سے رقم نکلوائے اور اس میں جعلی نوٹ نکل آئے تو اس کے لیے مسئلہ حل کرانے کا کوئی واضح اور مؤثر طریقہ موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں :جعلی کرنسی، پانچ ہزار کا نوٹ لینے سے پہلے یہ سات نشانیاں ضرور دیکھ لیں
ان کے مطابق ایسے معاملے میں شہری کو پولیس سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے لیکن وہاں بھی اس سے پوچھا جاتا ہے کہ جعلی نوٹ اس کے پاس کہاں سے آیا۔ انہوں نے کہا کہ عام شہری کے لیے یہ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور جعلی کرنسی کے مسئلے پر دو سال گزرنے کے باوجود خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔
سینیٹ کی خزانہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن اور سیکیورٹی فیچرز پر حکومتی سطح پر مشاورت جاری رہی ہے تاہم اس معاملے میں مزید وقت لگنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ نئے نوٹوں میں ایسے جدید اور نمایاں حفاظتی فیچرز شامل کیے جائیں جنہیں عام شہری بھی آسانی سے پہچان سکے۔ ان کے مطابق صرف موبائل ایپ یا پیچیدہ طریقہ کار پر انحصار کرنے کے بجائے نوٹ میں ہی واٹر مارک، خصوصی لائنوں اور دیگر جدید سیکیورٹی خصوصیات کو نمایاں کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں :لاہور: جعلی کرنسی استعمال کرنے پر ایس پی بلال قیوم کو نوکری سے فارغ
سلیم مانڈوی والا نے پاکستان میں پلاسٹک یا پولیمر کرنسی متعارف کرانے کے امکان پر بھی غور کرنے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ممالک میں پولیمر نوٹ استعمال کیے جا رہے ہیں اور پاکستان بھی اس تجربے کا جائزہ لے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید سیکیورٹی خصوصیات کے حامل نوٹ متعارف کرانے سے جعلی کرنسی کی تیاری کو مشکل بنایا جاسکتا ہے اور شہریوں کے لیے اصلی اور جعلی نوٹ میں فرق کرنا بھی آسان ہوسکتا ہے۔

