پی ٹی آئی کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ۔ تجریہ کار رضوان رضی سرحد یونیورسٹی معاملے کی حقیقت سامنے لے آئے،پی ٹی آئی کی جانب سے منفی پروپیگنڈا جس پاک فوج کے خلاف نفرت کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کی حقیقت سامنے لے آئے ۔
سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کے واقعے کو پی ٹی آئی کی جانب سے پاک فوج کے خلاف نفرت کے تاثر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ناکام ، تجزیہ کار رضوان رضی نے اپنے وی لاگ میں ایک طالبہ کی مبینہ آڈیو سامنے لاتے ہوئے واقعے کے پس پردہ حالات پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
طالبہ کی آڈیو میں یونیورسٹی کے اندرونی معاملات، انتظامی اختلافات اور ڈاکٹر جدون کے مبینہ اثر و رسوخ سے متعلق دعوی کیا گیا ۔
یہ بھی پڑھیں :سرحد یونیورسٹی معاملہ ، جدون گینگ آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر شاہد قریشی کی جرات مندانہ رپورٹنگ پر ہراساں کرنے لگا
رضوان رضی کے مطابق طالبہ نے اپنی آڈیو میں دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی میں قواعد و ضوابط پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا جبکہ انتظامیہ کی جانب سے نظم و ضبط بحال کرنے اور قواعد سخت کرنے کی کوشش کے بعد بعض طلبہ نے احتجاج شروع کیا۔ آڈیو میں ڈاکٹر جدون پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے طلبہ کو اپنے حق میں متحرک کیا جس کے نتیجے میں معاملہ مزید شدت اختیار کرگیا۔
طالبہ کے مطابق انتظامی افسر کو مبینہ طور پر یونیورسٹی میں داخل ہونے سے روکا گیا جس کے بعد انہوں نے اپنے شوہر کرنل اسفندیار کو مدد کے لیے بلایا۔ آڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ فوجی افسر کی آمد پر طلبہ کے ساتھ تلخ کلامی اور دھکم پیل ہوئی جس کے بعد انہوں نے اپنی اہلیہ کے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی۔
یہ بھی پڑھیں :سرحد یونیورسٹی ہراسگی معاملہ، سوشل میڈیا پر فوجی افسر کی حمایت میں آوازیں بلند، طلبہ کے رویے کیخلاف شدید ردعمل
رضوان رضی نے اپنے وی لاگ میں اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ احتجاج کے لیے طلبہ کو کس نے منظم کیا اور یونیورسٹی کے اندر جاری تنازع کس مرحلے پر اس قدر سنگین ہوگیا۔ ان کے مطابق واقعے کو صرف پاک فوج کے خلاف نفرت کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے اس کے مکمل پس منظر کو بھی سامنے لانا ضروری ہے۔

