وزیر اعظم کا پمز واقعہ پر سخت ایکشن، سیکرٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا

وزیر اعظم کا پمز واقعہ پر سخت ایکشن، سیکرٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے سانحے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کرکے عہدے سے ہٹا دیا جبکہ واقعے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پمز ہسپتال کے واقعے سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سانحے کے مختلف پہلوؤں اس کے محرکات اور ممکنہ ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کے حوالے سے بھی غور کیا گیا۔

وزیراعظم نے واقعے کی حقیقت سامنے لانے اور تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ کمیٹی کی سربراہی سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کے سپرد کی گئی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی پمز ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی متعلقہ حکام اور دیگر ذمہ داران کے بیانات قلمبند کرے گی اور دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں واقعے کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کرے گی۔ کمیٹی اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پمز اسپتال واقعہ کی بڑی وجہ بتا دی

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ واقعے کی تحقیقات مکمل طور پر شفاف غیر جانب دارانہ اور میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تحقیقات کے دوران کسی قسم کا دباؤ قبول نہ کیا جائے اور حقائق کو سامنے لایا جائے۔

وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ اگر تحقیقات میں کسی فرد یا افسر کی غفلت کوتاہی یا ذمہ داری ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون اور قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

وزیراعظم کی جانب سے وفاقی سیکرٹری صحت کو عہدے سے ہٹانے اور اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کے فیصلے کو واقعے کی سنگینی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles