کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ کے قریب واقع بنی گالا میں بغیر منظوری کے قائم کی جانے والی پراپرٹی کی خرید و فروخت کی ’یار محمد اسکیم‘کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے حتمی شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔
سی ڈی اے نے اسکیم میں ہر قسم کی تعمیرات، پلاٹوں کی الائٹمنٹ، مارکیٹنگ اور خریدو فروخت پر فوری پابندی عائد کرتے ہوئے ڈویلپرز کو 7 دنوں کے اندر تمام غیر قانونی ڈھانچے ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدم تعمیل کی صورت میں اتھارٹی نے تمام غیر قانونی عمارتیں مسمار کرنے، دفاتر سیل کرنے اور آپریشن کا تمام خرچہ مالکان سے وصول کرنے کا واضح اعلان کیا ہے۔
غیر قانونی تعمیرات اور این او سی کی عدم موجودگی
میڈیا رپورٹ کے مطابق، سی ڈی اے کے شعبہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ نے دیکھا کہ بنی گالا کے علاقے میں یار محمد اسکیم بغیر کسی منظور شدہ لے آؤٹ پلان (ایل او پی) اور نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کے سرگرمِ عمل تھی۔
اسلام آباد کے کیپیٹل بلڈنگ بائی لاز اور متعلقہ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر سی ڈی اے نے کارروائی کرتے ہوئے تمام تر ترقیاتی کام اور اشتہاری مہم فوری طور پر روکنے کا حکم دیا۔
نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ 2016 سے 2025 کے درمیان ڈویلپرز کو بارہا پبلک نوٹسز اور انتباہی خطوط بھیجے گئے، لیکن انہوں نے قوانین پر عمل کرنے کے بجائے غیر قانونی کام جاری رکھا۔
7 دن کی حتمی مہلت اور یکطرفہ آپریشن کا انتباہ
سی ڈی اے انتظامیہ نے یار محمد اسکیم کے انتظامی ذمہ داروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نوٹس ملنے کے 7 دنوں کے اندر اپنی تمام غیر قانونی ساختیں خود مسمار کریں اور زمین کا بلا اجازت استعمال فوری بند کر کے اپنے موقف کی تحریری وضاحت جمع کرائیں۔
اگر مقررہ مدت کے اندر اطمینان بخش جواب نہ ملا یا غیر قانونی کام نہ روکا گیا تو اتھارٹی کسی بھی مزید نوٹس کے بغیر یکطرفہ (ایکس پارٹی) کارروائی کا آغاز کر دے گی۔
اس کارروائی کے تحت نام نہاد ہاؤسنگ اسکیم کے دفاتر سیل کر دیے جائیں گے اور تمام غیر قانونی تعمیرات پر بلڈوزر چلا دیا جائے گا، جبکہ اس سارے گرینڈ آپریشن کے اخراجات بھی قانون کے مطابق متعلقہ ڈویلپرز ہی سے وصول کیے جائیں گے۔
بجلی، گیس اور تشہیری مہم پر مکمل پابندی کے احکامات
شہریوں کی محنت کی کمائی کو محفوظ رکھنے اور غیر قانونی عمل کو روکنے کے لیے سی ڈی اے نے اس شوکاز نوٹس کی کاپیاں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) انتظامیہ، اسلام آباد پولیس، آئیسکو (برقی فراہمی کمپنی)، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل)، ایس ای سی پی اور پی آئی ڈی کو بھی بھجوا دی ہیں۔
سی ڈی اے نے گیس اور بجلی کی فراہمی والی کمپنیوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ اس غیر قانونی اسکیم کو کسی بھی قسم کے کنکشن فراہم نہ کریں، جبکہ پیمرا اور پی آئی ڈی کو اسکیم کی کسی بھی قسم کی تشہیری و مارکیٹنگ مہم کو روکنے کی تاکید کی گئی ہے۔
بنی گالا اور غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کا دیرینہ مسئلہ
بنی گالا کا علاقہ اسلام آباد کے حساس اور سبز زون کا حصہ سمجھا جاتا رہا ہے جہاں ماضی میں بغیر منصوبہ بندی کے درجنوں غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں اور تجارتی عمارتیں قارو قارون کی طرح کھڑی ہو گئیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے بنی گالا میں ماحولیاتی تحفظ اور بلا اجازت تعمیرات کے خلاف متعدد اہم فیصلے دے رکھے ہیں، جن میں سی ڈی اے کو واضح ہدایت کی گئی تھی کہ بنی گالا کی حدوں میں بغیر این او سی کسی بھی نئی یا پرانی اسکیم کو برداشت نہ کیا جائے۔
حالیہ قدم اسی عدالتی فیصلے اور 2016 سے 2025 کے دوران دیے گئے تسلسل پر مبنی انتباہات کا نتیجہ ہے تاکہ وفاقی دارالحکومت میں مزید غیر قانونی ٹاؤن پلاننگ کو روکا جا سکے۔
کیا سی ڈی اے کا ایکشن نفاذ کی حد تک پہنچ پائے گا؟
اس پورے معاملے میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے یار محمد اسکیم کو حتمی نوٹس دینا ایک درست مگر کافی تاخیر سے اٹھایا گیا قدم ہے۔
سال 2016 سے 2025 تک یعنی تقریباً 9 سال کے طویل عرصے تک محض نوٹسز جاری کرنا اور عملی آپریشن سے گریز کرنا ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث سرکش ڈویلپرز کو این او سی کے بغیر پلاٹ بیچنے کی ہمت ملتی رہی۔
بنی گالا جیسے حساس ترین علاقے میں، جو سابق وزیراعظم کی رہائش گاہ کی وجہ سے ہمیشہ میڈیا کی سرخیوں میں رہتا ہے، وہاں اتنے عرصے سے قانون کی دھجیاں اڑانا سی ڈی اے کے نفاذی ادارے کی روایتی سستی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
تاہم اس بار شوکاز نوٹس کے ساتھ بجلی اور گیس کی کمپنیوں، پولیس اور ایس ای سی پی کو شامل کرنا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ سی ڈی اے انتظامیہ اب کچھ عملی اقدامات کرنے پر سنجیدہ نظر آتی ہے۔