پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد غمزدہ والدین اور دیگر لواحقین نے ہسپتال انتظامیہ سے کئی اہم سوالات کے جواب مانگ لیے ہیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات صرف آگ لگنے کی وجہ تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ آگ لگنے کے بعد بچوں کو بروقت کیوں نہ نکالا جا سکا اور ہسپتال کا ایمرجنسی نظام اس موقع پر کس حد تک فعال تھا۔
متاثرہ خاندانوں کے مطابق سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب نرسری میں آگ لگی اور دھواں پھیلنا شروع ہوا تو ہسپتال کا ایمرجنسی عملہ کہاں تھا؟ اگر ہسپتال میں کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ نظام موجود تھا تو بروقت کارروائی کیوں نہ کی گئی؟
ایک نومولود بچے کے والد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے نومولود بچے کی زندگی بچانے کے لیے ہسپتال پہنچے تو صورتحال انتہائی خوفناک تھی۔ ان کے مطابق ہر طرف دھواں پھیلا ہوا تھا اور والدین اپنے بچوں تک پہنچنے کے لیے پریشان تھے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تحقیقات میں یہ واضح کیا جائے کہ آگ لگنے کے ابتدائی لمحات میں ذمہ دار عملے نے کیا اقدامات کیے۔
ایک دوسرے متاثرہ خاندان کے فرد نے سوال اٹھایا کہ اگر ڈاکٹرز نرسیں اور دیگر ہسپتال ملازمین آگ اور دھویں کے دوران متاثرہ حصے سے باہر نکل رہے تھے تو نومولود بچوں کو بروقت کیوں نہیں نکالا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ نرسری میں موجود بچوں کو باہر منتقل کرنا عملے کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تھی اس لیے اس حوالے سے مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے کہ کس وقت کس نے کیا اقدام کیا۔
ایمرجنسی دروازے بند کیوں تھے؟
ایک عینی شاہد نے نرسری کے دروازوں سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ہنگامی صورتحال میں باہر نکلنے یا داخل ہونے کے راستے موجود تھے تو وہ بروقت کیوں نہیں کھلے؟ ان کا مطالبہ ہے کہ یہ بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جائے کہ نرسری کے دروازے کس حالت میں تھے، کیا وہ معمول کے مطابق فعال تھے اور آگ لگنے کے وقت انہیں کھولنے میں رکاوٹ کیوں پیش آئی۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ایمرجنسی ایگزٹ اور دروازے کسی بھی حادثے کی صورت میں سب سے اہم حفاظتی سہولت ہوتے ہیں۔ اگر کسی دروازے کے بند ہونے یا نہ کھلنے کی شکایت سامنے آتی ہے تو اس کی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔
مینٹی نینس کا نظام کہاں تھا؟
ایک بچے کے دادا نے ہسپتال کی مینٹی نینس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بڑے سرکاری ہسپتال میں بجلی، فائر الارم، وائرنگ، دروازوں، ایمرجنسی ایگزٹ اور آگ بجھانے کے آلات سمیت تمام حفاظتی نظام کی باقاعدگی سے جانچ ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق تحقیقات میں یہ معلوم کیا جائے کہ پمز کی نرسری میں آخری مرتبہ فائر سیفٹی اور برقی نظام کی مکمل جانچ کب ہوئی تھی، مینٹی نینس کا ذمہ دار کون تھا، کسی خرابی کی نشاندہی پہلے ہوئی تھی یا نہیں اور اگر ہوئی تھی تو اسے دور کیوں نہیں کیا گیا۔
حادثے کی صورت میں طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیوں نہ ہوا؟
سانحہ میں جاں بحق ہونے والے ایک بچے کے والد نے مطالبہ کیا کہ تحقیقاتی کمیٹی یہ بھی دیکھے کہ پمز ہسپتال میں آگ لگنے یا کسی دوسری ہنگامی صورتحال کی صورت میں عملے کے لیے کیا ایس او پیز موجود ہیں اور واقعے کے وقت ان پر کس حد تک عمل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں فائر ایمرجنسی کے لیے عملے کی ذمہ داریاں پہلے سے طے ہوتی ہیں۔ فائر الارم، ایمرجنسی اطلاع، بجلی یا گیس کی فراہمی سے متعلق حفاظتی اقدامات، مریضوں کی محفوظ منتقلی، ریسکیو ٹیموں کو فوری اطلاع اور ایمرجنسی راستوں کو کھولنا ایسے بنیادی اقدامات ہیں جن کا ریکارڈ تحقیقات میں سامنے آنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عملے کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت دی گئی تھی تو اس کا عملی مظاہرہ کیوں نظر نہیں آیا اور اگر تربیت یا مشق نہیں ہوئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
ریسکیو کو اطلاع اور کارروائی میں کتنا وقت لگا؟
متاثرہ خاندان کے ایک فرد نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات میں منٹ بہ منٹ ٹائم لائن سامنے لائی جائے ان کے مطابق یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آگ کب لگی پہلی اطلاع کس نے دی ہسپتال انتظامیہ کو کب معلوم ہوا فائر الارم کب فعال ہوا ریسکیو کو کب اطلاع دی گئی ریسکیو ٹیم کب پہنچی اور بچوں کو نرسری سے نکالنے کا عمل کب شروع ہوا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ ایسے حادثات میں چند منٹ بھی انتہائی اہم ہوتے ہیں، خصوصاً نومولود بچوں کے معاملے میں۔ اس لیے محض یہ بتانا کافی نہیں کہ آگ لگ گئی تھی بلکہ یہ بھی سامنے آنا چاہیے کہ آگ لگنے کے بعد ہر مرحلے پر کیا ہوا۔
متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کو صرف آگ لگنے کی وجہ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہسپتال انتظامیہ، متعلقہ ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، سیکیورٹی، مینٹی نینس، فائر سیفٹی انتظامات اور ایمرجنسی رسپانس سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر کسی فرد یا ادارے کی غفلت، کوتاہی یا حفاظتی انتظامات میں ناکامی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے، تاہم تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی فرد کو حتمی طور پر ذمہ دار قرار نہ دیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچے واپس نہیں آسکتے، لیکن شفاف تحقیقات کے ذریعے یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ اتنے معصوم بچوں کی جانیں بچانے میں کہاں کہاں ناکامی ہوئی۔ ان کے مطابق اصل مقصد صرف ذمہ داروں کا تعین نہیں بلکہ مستقبل میں ملک کے کسی بھی ہسپتال میں ایسے سانحے کی روک تھام یقینی بنانا بھی ہونا چاہیے۔
متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے، غفلت ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ملک بھر کے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی ایمرجنسی ایگزٹ فائر الارم بجلی کے نظام اور عملے کی ہنگامی تربیت کا ازسرنو جائزہ لیا جائے