امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں دوبارہ کشیدگی کشروع ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 56 سینٹ یا 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 91.50 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 83 سینٹ یا ایک فیصد اضافے سے 86.59 ڈالر فی بیرل ہوگئی، اماراتی مربن خام تیل کی 98.45 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈنگ جاری ہے۔
گزشتہ کاروباری سیشن میں برینٹ کی قیمت میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا تھا اور دورانِ کاروبار یہ 25 اگست کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 21 اگست کے بعد کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید حملوں کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے خدشات کے باعث خلیج میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نظر آنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد کم ہو کر روزانہ صرف پانچ رہ گئی ہے ، آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ منتقل کرنے کے لیے اہم سمندری راستہ ہے۔
قطر اور عمان سمیت ثالث ممالک کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم اب تک ان کوششوں میں نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی، ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد آبی گزرگاہ بند کردی تھی۔
مزید اضافہ متوقع
رائٹرز کے مطابق اگست میں کیے گئے تجزیہ کاروں کے سروے میں توقع ظاہر کی گئی تھی کہ 2026 کے دوران تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہ سکتی ہیں، کیونکہ سمندری راستوں میں خلل کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔