امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی شدت اختیار کرگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو ایرانی حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران کے خلاف سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی ہے۔
ٹرمپ نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کی جانب سے امریکی افواج کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکا کی جانب سے جواب دیا جائے گا اور ایران کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کئی ہفتوں کی کشیدہ صورتحال کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ براہ راست فوجی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
تازہ صورتحال کے مطابق امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی جزیرے لارک پر دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق ان لانچرز سے راکٹ داغنے اور سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کی جارہی تھی۔ امریکا نے اس کارروائی کو محدود اور ہدفی قرار دیا ہے۔
ایران نے امریکی کارروائی کے جواب میں اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق کارروائی میں اردن کے کنگ حسین اور الازرق فوجی اڈوں کو ہدف بنایا گیا۔ اردن کی جانب سے بتایا گیا کہ متعدد میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روک لیا گیا۔
امریکی صدر کی تازہ دھمکی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ فوجی محاذ آرائی نے مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع کے خطرے کو بھی نمایاں کردیا ہے۔
ایران نے بھی امریکی حملوں کے جواب میں کارروائی کا حق برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی فوجی جارحیت کا مناسب اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل کی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں کشیدگی میں اضافے کے عالمی تجارت اور تیل کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔