امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا ۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈرسکول کے استعفے کے پس پردہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ کئی ماہ سے جاری کشیدگی کو اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق معاملے سے واقف متعدد ذرائع نے ڈین ڈرسکول کے استعفے کی تصدیق کی ہے۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ڈرسکول اور وزیر دفاع کے درمیان تناؤ کے باعث ان کی رخصتی زیادہ حیران کن نہیں تھی۔
امریکی فوج کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ڈین ڈرسکول نے صدر ٹرمپ سے موجودہ صورتحال پر گفتگو کی اور اس کے بعد اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے بھی ڈرسکول کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محکمہ فوج میں صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ڈین ڈرسکول نے اہم فوجی کارروائیوں کے دوران قیادت فراہم کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکی فوج کی تیاری اور جنگی صلاحیت پر توجہ بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کے سلسلے میں بھی معاونت کی۔
ڈین ڈرسکول کا استعفیٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا ایران جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے اور اس تنازع کے فوری طور پر ختم ہونے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ ایسے حالات میں امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں ہونے والی یہ تبدیلی خصوصی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
ڈین ڈرسکول امریکی فوج کے تجربہ کار اہلکار ہیں اور نائب صدر جے ڈی وینس کے دیرینہ دوست بھی سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں نے ییل لا اسکول میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد بھی ان کے درمیان قریبی تعلق برقرار رہا۔
رپورٹس کے مطابق ڈرسکول اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان اختلافات گزشتہ کئی ماہ سے نمایاں تھے۔ ذرائع کے مطابق ہیگسیتھ کو ڈرسکول کے وائٹ ہاؤس کے ساتھ براہ راست اور قریبی روابط پر تحفظات تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ڈرسکول بعض معاملات میں وزارت دفاع کے ذریعے جانے کے بجائے براہ راست وائٹ ہاؤس سے رابطہ کررہے ہیں۔
ہیگسیتھ کے دور میں امریکی فوجی قیادت میں کئی اہم تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔ رواں سال انہوں نے امریکی فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ ڈرسکول اور جنرل رینڈی جارج ایک دوسرے کے ساتھ قریبی طور پر کام کرچکے تھے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیر دفاع اپنے دور کے آغاز ہی سے اپنے اردگرد موجود بعض فوجی اور سویلین حکام کے بارے میں محتاط رہے ہیں اور ان کی وفاداریوں پر بھی سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ ڈرسکول کے ساتھ اختلافات کو اسی اندرونی کشمکش کی نمایاں مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ڈرسکول کے استعفے کے بعد اب امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں آئندہ تقرری پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا متعدد حساس عالمی اور عسکری معاملات میں فعال کردار ادا کررہا ہے