پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کرتے ہوئے 2029 تک باہمی تجارت کا حجم 2 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے خطے میں رابطوں کے فروغ کے لیے ٹرانس پاکستان ریلوے منصوبے پر پیش رفت تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کے درمیان بشکیک میں اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات سمیت تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان۔ وزیر تجارت جام کمال اور وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی ملاقات میں موجود تھے۔
ملاقات کے دوران صنعت۔ زراعت۔ ادویہ سازی۔ ٹیکسٹائل۔ کان کنی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے سلامتی کے شعبے میں تعاون کو بھی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ازبکستان کے صدر اور عوام کو ملک کی آزادی کی 35ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قائم اسٹریٹجک تعاون کونسل نے باہمی شراکت داری کو نئی سمت اور رفتار دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم نے تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
ملاقات میں ازبکستان۔ افغانستان۔ پاکستان ریلوے منصوبے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے اس منصوبے کو وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ انہوں نے مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی پر جلد پیش رفت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے کو عملی شکل دینے سے خطے میں تجارت اور نقل و حمل کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے فضائی رابطوں میں اضافے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر تاشقند اور کراچی کے درمیان براہ راست پروازوں کے آغاز کی تجویز بھی زیر بحث آئی۔ براہ راست فضائی رابطے سے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری اور عوامی روابط مزید مضبوط ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کی آئندہ پاکستان کی صدارت کے لیے ازبکستان کی حمایت کو بھی سراہا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان موجود اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت۔ سرمایہ کاری اور علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ دو ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کو بھی اہم قرار دیا گیا۔