ایران نے زیر زمین بیلسٹک میزائلوں کی  تیاری دوبارہ شروع کردی، امریکی اخبار کا دعوی

ایران نے زیر زمین بیلسٹک میزائلوں کی  تیاری دوبارہ شروع کردی، امریکی اخبار کا دعوی

ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود زیر زمین تنصیبات میں بیلسٹک میزائلوں کی اسمبلنگ دوبارہ شروع کر دی ہے، امریکی اخبار نے اہم دعویٰ کردیا۔

میزائل اسمبلنگ بحال

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی اور مشرق وسطیٰ کے حکام کا کہنا ہے کہ ایران موجودہ ذخائر میں موجود پرزہ جات استعمال کرتے ہوئے میزائل تیار کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی تنصیبات میں مائع ایندھن اور ٹھوس ایندھن سے چلنے والے بیلسٹک میزائلوں کی محدود پیمانے پر اسمبلنگ کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق جنگ سے پہلے ذخیرہ کیے گئے اجزا کی مدد سے پیداوار کا یہ عمل جاری ہے  تاہم اس کی رفتار جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں کم بتائی گئی ہے۔

خوجیر میں سرگرمیاں

انٹیلی جنس معلومات کے مطابق جنوب مشرقی ایران میں واقع خوجیر میزائل تنصیب سمیت کئی زیر زمین مقامات پر سرگرمیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کا جوابی وار، امریکی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کر دی

امریکی حکام کے مطابق ایران مستقبل میں میزائل تنصیبات کو فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مزید زیر زمین اسمبلی مراکز قائم کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیر زمین نظام ایران کے میزائل پروگرام کو حملوں کے بعد نسبتاً تیزی سے دوبارہ فعال کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

صنعتی مراکز متاثر

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں میں ایران کے میزائل پروگرام سے وابستہ کئی صنعتی مراکز کو شدید نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

عرب حکام کے مطابق مائع ایندھن تیار کرنے والی کیمیائی تنصیبات اور ٹھوس ایندھن کی تیاری میں استعمال ہونے والے صنعتی مکسروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ان نقصانات کے باعث ایران کے لیے بڑے پیمانے پر نئے میزائل تیار کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگیا ہے  جبکہ بیرون ملک سے ضروری اجزا کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔

ذخیرہ شدہ پرزے اہم

رپورٹ کے مطابق ایران اس وقت نئی پیداوار کے لیے بڑی حد تک ایسے پرزہ جات پر انحصار کر رہا ہے جو جنگ سے قبل زیر زمین تنصیبات میں محفوظ کیے گئے تھے۔

امریکی حکام کے مطابق موجودہ ذخائر ایران کو محدود تعداد میں میزائل اسمبل کرنے کی صلاحیت فراہم کر رہے ہیں، تاہم مستقبل کی پیداوار ذخائر کی مقدار پر منحصر ہوگی۔

ماہرین کے مطابق ایران نے اپنے میزائل پروگرام کو مختلف مقامات اور زیر زمین مراکز میں تقسیم کرکے اس انداز میں تشکیل دیا ہے کہ کسی ایک حملے سے پوری صلاحیت ختم نہ ہو سکے۔

تنصیبات کی مرمت جاری

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے ایران میں تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کی سرگرمیاں بھی ظاہر ہوتی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران پر حملہ ہوا تو جواب پہلے سے زیادہ تیز اور دردناک ہوگا، باقر قالیباف نے خبردار کردیا

رپورٹ میں سڑکوں اور پلوں کے علاوہ میزائلوں کی تیاری سے متعلق مراکز کی مرمت اور بحالی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

اسرائیلی حکام کے لیے ایران کی تیز رفتار تعمیر نو اس لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے کہ اس سے تہران کو اپنی عسکری صلاحیتیں دوبارہ منظم کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

سرنگوں کے راستے بحال

رپورٹ کے مطابق ایران نے بعض میزائل اڈوں تک جانے والی ان سرنگوں کے راستوں کو بھی بحال کیا ہے جو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں متاثر ہوئے تھے۔

اسرائیلی فوج کے جائزوں کے مطابق زیر زمین تنصیبات میں محفوظ کیے گئے بعض ہتھیار ممکنہ طور پر حملوں کے باوجود محفوظ حالت میں موجود ہیں۔

یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ زیر زمین ذخیرہ گاہیں اور پیداواری مراکز ایران کے میزائل پروگرام کے لیے اہم دفاعی کردار ادا کر رہے ہیں۔

مکمل خاتمہ مشکل

امریکی اخبار کے مطابق تازہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا توقع سے زیادہ مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔

امریکا اور اسرائیل نے ایران کی میزائل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے  تاہم زیر زمین تنصیبات اور پہلے سے موجود پرزہ جات نے بحالی کی گنجائش برقرار رکھی ہے۔

دوسری جانب صنعتی مراکز کی تباہی، خام مال کی فراہمی میں رکاوٹ اور پیداواری ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ایران کے لیے فوری طور پر جنگ سے پہلے کی سطح پر پیداوار بحال کرنا آسان نہیں ہوگا۔

editor

Related Articles