27 ستمبر احتجاج سے قبل اسلام آباد کے نئے تعینات ہونے والے آئی جی سہیل چوہدری کا پرانا بیان سوشل میڈیا پر وائرل

27 ستمبر احتجاج سے قبل اسلام آباد کے نئے تعینات ہونے والے آئی جی سہیل چوہدری کا پرانا بیان سوشل میڈیا پر وائرل

نئے تعینات آئی جی اسلام آباد سہیل چوہدری کا عمران خان کے لانگ مارچ اور احتجاج سے متعلق مئی 2022 کا پرانا ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔

27 ستمبر کے احتجاج سے قبل سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں سہیل چوہدری، جو اس وقت سی سی پی او لاہور کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، لاہور کے شہریوں سے احتجاج کے حوالے سے اپیل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ویڈیو پیغام میں سہیل چوہدری نے بحیثیت لاہور پولیس کمانڈر شہریوں، بزرگوں، خواتین، بھائیوں اور دیگر افراد سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ لوگ امن کو تباہ کرنے کے لیے پرامن کال دے کر احتجاج کر رہے ہیں، لیکن ان کے بقول یہ خونی احتجاج ہے۔

سہیل چوہدری نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ رات کو لاہور پولیس کے ایک کانسٹیبل کو شہید کیا گیا اور ان کے مطابق جتھہ بردار افراد نے انہیں گولی مار کر شہید کیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ کوئی پرامن احتجاج نہیں ہے اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ اپنے بچوں کے مستقبل کو داؤ پر نہ لگائیں اور انہیں واپس گھروں میں بلائیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں سہیل چوہدری نے نوجوان نسل سے بھی اپیل کی تھی کہ پاکستان اور لاہور کے امن کو بچانے کے لیے پولیس کی مدد کریں اور اگر کسی جگہ نقصِ امن ہو تو پولیس کو اطلاع دیں۔

انہوں نے اپنے اس وقت کے بیان میں کہا تھا کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور جو شخص بھی قانون ہاتھ میں لے گا، لاہور پولیس اس کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

سہیل چوہدری کی بطور آئی جی اسلام آباد تعیناتی کے بعد ان کا یہ پرانا بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیر بحث آگیا ہے۔

Related Articles