مہنگا موبائل فون بیرونِ ملک سے منگوانے یا پاکستان لانے کے بعد ایک ساتھ بھاری پی ٹی اے ٹیکس ادا کرنا کئی شہریوں کیلئے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے، تاہم اب یہ بوجھ کافی حد تک کم ہونیوالا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے درآمد شدہ موبائل فونز پر عائد سیلز ٹیکس کو اقساط میں ادا کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
حکومت کی جانب سے دو ماہ سے زائد عرصہ قبل موبائل فون کے ٹیکس کیلئے اقساط کی سہولت کا اعلان کیا گیا تھا، جس پر اب FBR نے باضابطہ پیش رفت کردی ہے۔ نئی سہولت کے تحت افراد کو موبائل فون کی پوری ٹیکس رقم ایک ہی وقت میں ادا کرنے کے بجائے اسے اقساط میں جمع کرانے کی اجازت ہوگی۔
ایف بی آر کی جانب سے فیصلہ
ایف بی آر نے یہ سہولت سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے نویں شیڈول میں نئی شق شامل کرکے متعارف کرائی ہے، اس حوالے سے 11 ستمبر کو جاری کیے گئے ایف بی آر سرکلر نمبر 1 آف 2026 میں وضاحت کی گئی ہے۔
تاہم، اقساط میں ادائیگی کی سہولت کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکس کی ذمہ داری ختم یا مؤخر ہوجائے گی ، اس نئی شق کے مطابق موبائل فون درآمد کرنے والے فرد کو متعلقہ مالی سال کے اختتام سے پہلے تمام اقساط مکمل طور پر ادا کرنا ہوں گی۔
یہ تبدیلی فنانس ایکٹ 2026 کے ذریعے کی گئی ترامیم کے تحت سامنے آئی ہے، جس کا مقصد افراد کو قابل اطلاق ٹیکس ادا کرنے میں مزید لچک فراہم کرنا ہے۔
عملی طریقہ کار کیسے بنے گا؟
FBR کی جانب سے قانونی گنجائش پیدا کیے جانے کے بعد اب نظریں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) پر ہیں۔ اقساط میں ٹیکس وصول کرنے کا عملی طریقہ کار PTA کے Device Identification, Registration and Blocking System (DIRBS) کے ذریعے متعارف کرایا جائے گا۔
یعنی اب اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ PTA اس سہولت کو DIRBS میں کس طرح نافذ کرتی ہے اور شہری موبائل فون رجسٹریشن کے دوران اقساط کی ادائیگی کیسے کر سکیں گے۔
یہ پیش رفت ان افراد کیلئے خاص اہمیت رکھتی ہے جو بیرونِ ملک سے مہنگے موبائل فون پاکستان لاتے ہیں اور انہیں مقامی نیٹ ورک پر استعمال کرنے کیلئے ٹیکس اور رجسٹریشن کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
DIRBS کیوں متعارف کرایا گیا تھا؟
پاکستان میں DIRBS دسمبر 2018 میں متعارف کرایا گیا تھا، اس کا مقصد غیر رجسٹرڈ موبائل فونز کی شناخت کرنا اور ٹیکس و رجسٹریشن کی شرائط پوری نہ کرنے والے آلات کو مقامی نیٹ ورکس پر بلاک کرنا تھا۔
بعد ازاں جولائی 2019 سے بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے مسافروں کیلئے موبائل فون کی ڈیوٹی فری سہولت بھی واپس لے لی گئی۔ اس کے بعد درآمد شدہ موبائل فونز کیلئے عموماً مقامی نیٹ ورک پر استعمال سے پہلے متعلقہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی ادائیگی ضروری رہی۔
اب اقساط میں پی ٹی اے ٹیکس ادا کرنے کی اجازت سے صارفین کو ایک ہی وقت میں مکمل رقم ادا کرنے کے بجائے ادائیگی کا نسبتاً لچکدار راستہ مل سکتا ہے۔ تاہم، حتمی سہولت اور اس کا طریقہ کارپی ٹی اے کی جانب سے نظام متعارف کرانے کے بعد ہی واضح ہوگا۔
عوام کیلئے اس تبدیلی کا ممکنہ اثر
یہ فیصلہ خاص طور پر مہنگے درآمدی موبائل فون استعمال کرنے والے افراد کیلئے اہم سمجھا جا رہا ہے، ایک ساتھ بڑی رقم ادا کرنے کی مشکل کم ہونے سے ایسے صارفین کو کچھ مالی سہولت مل سکتی ہے، صارفین کیلئے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اقساط کی اجازت مکمل ٹیکس معافی نہیں ہے بلکہ درآمد شدہ موبائل فون پر عائد مکمل ٹیکس مالی سال کے اختتام سے پہلے ادا کرنا ہوگا۔
یوں ایف بی آر کی جانب سے قانونی راستہ کھولنے کے بعد اب اگلا اہم مرحلہ پی ٹی اے کی طرف سے اقساط میں پی ٹی اے ٹیکس کی ادائیگی کیلئے عملی نظام متعارف کرانا ہے۔