قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی، جس کے بعد صوبے میں ایمرجنسی کے معاملے پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی منظوری حاصل ہوگئی۔
ایوان بالا میں ایمرجنسی کی توثیق کے بعد خیبرپختونخوا میں اس اقدام کو آئینی اور پارلیمانی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے کا عمل مکمل ہوگیا۔ اس سے قبل قومی اسمبلی بھی صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کرچکی ہے۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں زیرِ غور آیا، جہاں دونوں ایوانوں نے اس کی توثیق کردی۔ سینیٹ کی منظوری کے بعد اس معاملے میں ایوان بالا کا کردار بھی مکمل ہوگیا۔
پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی توثیق کو صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے وفاقی سطح پر ایمرجنسی کے معاملے کو پارلیمانی منظوری حاصل ہوگئی ہے۔
صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ آئینی اختیارات اور وفاقی حکومت کے کردار کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی منظوری پارلیمانی کارروائی کا اہم مرحلہ ہے۔ایوان بالا کی توثیق کے بعد اب توجہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئینی تقاضوں اور اس کے تحت کیے جانے والے اقدامات پر مرکوز رہے گی۔