خیبرپختونخوا میں نافذ کیے گئے گورنر راج اور ایمرجنسی کی آئینی توثیق کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں باضابطہ قرارداد پیش کر دی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت مقررہ وقت سے 45 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز سے قبل اسپیکر اور اتحادی جماعتوں کے درمیان ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور دیگر اتحادی جماعتوں کے اراکین نے شرکت کی اور خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق سے متعلق مکمل لائحہ عمل طے کیا۔
اجلاس کے آغاز پر وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے ایوان سے گزارش کی کہ وقفہ سوالات کو معطل کیا جائے، جسے اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کی کارروائی معطل کر دی گئی۔ بعد ازاں طارق فضل چودھری نے صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کے لیے قرارداد ایوان میں پیش کی۔
وزیر قانون کا پالیسی بیان اور دہشتگردی کے اعداد و شمار
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بہت سے دوستوں کا یہ مؤقف رہا ہے کہ ایمرجنسی لگا کر منتخب حکومت کو باہر نکالا گیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں اندرونی خلفشار اور سرحد پار دراندازی کی وجہ سے ایمرجنسی کا فیصلہ کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ڈھائی گھنٹے تفصیلی گفتگو کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
وزیر قانون نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ آئین پاکستان کے عین مطابق ہے اور ریاست کی سلامتی، اتحاد اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے آئینی اختیارات کا استعمال کیا گیا ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں 2021 سے 2024 تک 2911 دہشتگردی کے واقعات ہوئے، جبکہ گزشتہ ایک سال کے عرصے میں یہ تعداد بڑھ کر 3783 ہو گئی ہے، جس پر وفاقی حکومت کو شدید تشویش تھی۔
سیاسی ترجیحات، مذاکرات کی ناکامی اور اسلام آباد پر چڑھائی کا الزام
اعظم نذیر تارڑ نے سابق صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سیکیورٹی فورسز اور عوام کی شہادتوں کو یکسر نظر انداز کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے وزیراعلیٰ دوروں پر نکل گئے اور صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر توجہ دینے کے بجائے ایک شخص کی رہائی کے لیے دارالحکومت پر چڑھائی کا اعلان کر دیا۔
وزیر قانون کے مطابق سیاسی جماعت کے نظریے کی وجہ سے دہشتگردی کو ہوا ملی اور ان کا رویہ اسلام آباد فتح کرنے جیسا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مسائل کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کی راہ اپنائی جبکہ وزیراعلیٰ نے سیاست کو ترجیح دی اور پوری قوم نے دیکھا کہ ہم دو دن تک سر جوڑ کر بیٹھے رہے لیکن وزیراعلیٰ نے صوبے میں لگی آگ کو بالکل نظر انداز کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار شخص کو رہا کرنا عدالت کا اختیار ہے، لیکن ہم سے مذاکرات میں ایسے مطالبات کیے گئے جو ایگزیکٹو کے اختیار میں نہیں تھے اور جیل میں قید اپنے لیڈر کے لیے آسانیوں اور سہولتوں کا مطالبہ کیا گیا جبکہ ہمارے لیے ریاست سیاست سے کہیں زیادہ عزیز ہے۔
ایوان میں تلخ جملوں کا تبادلہ اور اپوزیشن کا ردعمل
وفاقی وزیر قانون کی تقریر کے دوران ایوان میں اس وقت تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا جب اعظم نذیر تارڑ اور شفقت عباس کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی، تاہم بیرسٹر گوہر نے مداخلت کرتے ہوئے شفقت عباس کو خاموش رہنے کی ہدایت کی۔
وزیر قانون نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا طویل عرصے سے صوبے میں لگی اس آگ اور بدامنی سے متعلق مسلسل شکایت کر رہے تھے اور کے پی حکومت کا دہشتگردی کے خلاف یہ رویہ براہِ راست ملکی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا تھا۔
خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے بڑھتی ہوئی عسکریت پسندانہ کارروائیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کے ساتھ عدم تعاون کے باعث پیدا ہونے والے سیاسی و انتظامی تعطل نے ریاستی رِٹ کو شدید چیلنج کیا تھا، جس کے بعد آئینی تقاضوں کے تحت گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔
صوبائی سطح پر قانون نافذ کرنے کی بنیادی ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال کر وفاقی دارالحکومت کے خلاف محاذ آرائی اور سیاسی احتجاج کو ترجیح دینا اس بات کا غماز ہے کہ ذاتی و سیاسی ترجیحات کس طرح قومی سلامتی کو داؤ پر لگا سکتی ہیں۔
پارلیمنٹ میں اس آئینی توثیق کی کارروائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاست اب دہشتگردی کے معاملے پر کسی قسم کی سیاسی مصلحت پسندی کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، تاہم جمہوری نظام کے اندر اس قسم کے انتہائی اقدامات کے طویل مدتی اثرات ملک کی سیاسی اور آئینی فضا پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔