اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور بھارت میں حالیہ تباہ کن سیلاب پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کو امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
نیویارک میں اتوار کو ترجمان اسٹیفن دوجارک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ وہ ’سیلاب کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر انتہائی رنجیدہ ہیں‘۔
بیان میں کہا گیا کہ ’سیکریٹری جنرل متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں‘۔
اقوام متحدہ کی امداد کے لیے ٹیمیں تیار
انتونیو گوتریس نے واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت میں اقوام متحدہ کی غیر ملکی ٹیمیں حکومتوں کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیوں کے لیے تیار ہیں۔ دونوں ممالک اس وقت شدید مون سون بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے نبرد آزما ہیں۔
خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر
پاکستان میں خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر صوبہ رہا، جہاں اب تک کم از کم 323 افراد جاں بحق اور 156 زخمی ہو چکے ہیں۔
Secretary-General @antonioguterres expresses his deep sorrow at the lives tragically lost due to recent flash floods in India and Pakistan. Hundreds of people have been reported killed & many more still missing.
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں 273 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 123 مرد، 23 خواتین اور 10 بچے شامل ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر رہا، جہاں اب تک 209 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ دیگر متاثرہ علاقوں میں سوات، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 336 مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سے 106 مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 230 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
امدادی کارروائیاں جاری
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر 89 ٹرکوں کے ذریعے متاثرہ اضلاع میں امدادی سامان روانہ کر دیا گیا ہے۔ اس سامان میں خیمے، بستر، کچن سیٹ، ترپال، مچھر دانیاں، چٹائیاں اور جنریٹرز شامل ہیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے متاثرہ اضلاع کے لیے 80 کروڑ روپے کے امدادی فنڈز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ضلع بونیر کے لیے خصوصی طور پر مزید 50 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
مزید بارشوں کی پیشگوئی
ادھر محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں مزید 3 مون سون اسپیل داخل ہونے کا امکان ہے، جن کی شدت 50 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے۔
بارشوں کا اگلا بڑا سلسلہ 17 سے 19 اگست کے دوران متوقع ہے، جبکہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی ہے۔
شمالی علاقے اور پوٹھوہار ریجن سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ راولپنڈی، مری، جہلم، چکوال اور اٹک میں کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) کے خطرات موجود ہیں، جبکہ لاہور سمیت دیگر شہروں میں شہری سیلاب کا خدشہ ہے۔
جوں جوں خطہ مزید موسمی شدت کی طرف بڑھ رہا ہے، اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے ساتھ اظہار یکجہتی اور امداد کی پیشکش ایک اہم بین الاقوامی تعاون کی علامت ہے۔