امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں امریکا کا جدید ترین ایف-35 بی لڑاکا طیارہ تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے میں پائلٹ نے بروقت پیراشوٹ کے ذریعے طیارے سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچا لی جبکہ امریکی فوج نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
امریکی میرین ایئرکرافٹ گروپ 11 کے مطابق ایک نشست والا ایف-35 بی لڑاکا طیارہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 10 بجے میرین کور ایئر اسٹیشن سان ڈیاگو میں لینڈنگ کے لیے رن وے کی جانب آ رہا تھا کہ اچانک رن وے تک پہنچنے سے قبل گر کر تباہ ہو گیا۔
امریکی فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق حادثے سے چند لمحے قبل پائلٹ نے ہنگامی صورتحال میں ایجیکشن سسٹم استعمال کرتے ہوئے پیراشوٹ کے ذریعے بحفاظت طیارے سے نکلنے میں کامیابی حاصل کی۔ انہیں معمولی زخمی حالت میں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت خطرے سے باہر قرار دی ہے۔
حادثے کے فوراً بعد ایئرپورٹ کی فائر اینڈ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور طیارے کے ملبے میں لگنے والی آگ کے علاوہ اردگرد کی گھاس میں بھڑکنے والی آگ پر بھی قابو پا لیا گیا، جس سے مزید نقصان ہونے سے بچ گیا۔
ابتدائی طور پر طیارہ گرنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ امریکی فوجی حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ تحقیقاتی ٹیم طیارے کے فلائٹ ڈیٹا، تکنیکی نظام اور دیگر شواہد کا جائزہ لے گی۔
واضح رہے کہ ایف-35 بی لائٹننگ II دنیا کے جدید ترین اسٹیلتھ ملٹی رول لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ جدید ریڈار سے بچنے کی صلاحیت، جدید ہتھیاروں کے نظام اور مختصر رن وے سے اڑان بھرنے اور ورٹیکل لینڈنگ کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسے امریکی میرین کور، برطانیہ اور اٹلی کی فضائی افواج بھی استعمال کرتی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایک ایف-35 بی طیارے کی قیمت تقریباً 102 ملین امریکی ڈالر ہے، جس کے باعث اسے دنیا کے مہنگے ترین اور جدید ترین جنگی طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
حالیہ حادثے نے ایک بار پھر اس جدید طیارے کی تکنیکی کارکردگی اور حفاظتی نظام سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے، تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حتمی حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے